کشمیر… وہ شير اَب ہوشیار ہوگا! – از استاد اسامہ محمود حفظہ اللہ (Kashmir…The Lion Shall Wise Up Now! Ustadh Usama Mahmood – Hafithahullah)

کشمیر… وہ شير اَب ہوشیار ہوگا! – از استاد اسامہ محمود حفظہ اللہ

(Kashmir…The Lion Shall Wise Up Now! Ustadh Usama Mahmood – Hafithahullah)

ڈاؤن لوڈ | Download

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ ربّ العالمین و الصلاۃ و السلام علی رسولہ الکریم

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي۔

کشمیروپاکستان اور پورے برصغیر کے میرے عزیز مسلمان بھائیو!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !

کشمیر کے جو حالیہ حالات ہیں کہ جہاں انتہائی طویل اور سخت کرفیو میں دفعہ 370کاخاتمہ ہوا، سوا کروڑ سے زائد مسلمانوں کا کشمیرا یک بدترین جیل خانہ بن گیا ، ذرائع ابلاغ پر مکمل طور پر پابندی ہے، خبروں کےنکلنے کےتمام تر راستےمسدود کیے گئے ہیں، اور ایک خوفناک خاموشی کے اندر ہمارے کشمیری بھائیوں پر بدترین مظالم ڈھائے جا ر ہے ہیں،تو یہ صورت حال انتہائی غیر معمولی ہے ، یہ منظر بھارت کے تکبر، ہٹ دھرمی اوراس کے آگے کے خطرناک عزائم کی بھی عکاسی کرتا ہے، یہ واضح کرتا ہے کہ مسلمانوں کی دینی حمیت کچلنے ، ان کی تحریک آزادی کی بیخ کنی کرنے اورکشمیر میں ان کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنےکے لیے آئندہ بھی یہ ہر ظالمانہ ہتھکنڈہ استعمال کریں گے اور شرافت وانسانیت کا جو یہ خون کرتے ہیں ، اس کو بڑے دھڑلے سے قانونی اور آئینی لبادہ بھی اوڑھائیں گے ۔

عزیز بھائیو! ان مظالم کا تماشہ ہم نے دیکھنا ہے، بیکار تبصرے ، خالی خولی نعرے اور برائے نام یکجہتی کے مظاہرے ہم نے صرف کرنے ہیں یا اللہ کی طرف سے کوئی سنجیدہ عمل بھی ہماری ذمہ داری بنتا ہے؟واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے ، اس میں ہماری آپ کی آزمائش ہے۔ یہ واقعات ہر مسلمان کے ایمان و اسلام پر سوالیہ نشان بن کر اس کو پکار ر ہے ہیں ۔ اگر اپنے بھائیوں کے اس درد پرہم واقعی ، دل سے درد مند نہ ہوں یا ہمیں درد تو ہو مگر یہ درد ہمیں اخلاص کے ساتھ میدان عمل میں نہ اتارے تو سچ یہ ہے کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہو سکتے ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولايسلمه۔’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس پرظلم ہوتا چھوڑتاہے ‘‘…اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کرنا اور ظالم کا ہاتھ روکنا فرض ہے ، مگر عزیز بھائیو!حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں جاری اس ظلم کا خاتمہ صرف اُس وقت ہوسکتا ہے جب بطور امت اُن حقائق کو تسلیم کیا جائے جن پر ان حالیہ واقعات نے ایک دفعہ پھر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔ یہ حقائق ہی ہیں جو ہمیں سراب اور حقیقت کے مابین فرق بتاتے ہیں اور یہ تاکید کرتے ہیں کہ یہ فرق کیے بغیر نہ آزادی کی منزل کی طرف قدم بڑھایا جاسکتا اور نہ ہی کہیں غاصبوں اور ظالموں سے اپنے اسلامی حقوق چھینے جا سکتے ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جو غیرمبہم اور بالکل واضح ہیں اور کشمیر و ترکستان سے لےکر فلسطین و شام تک امت کے تمام مظلومین کو فتح ونصرت کاوہ راستہ دکھاتے ہیں جو سیدھا، یکتا اورکشادہ ہے ۔آئیے ان حقائق پر تھوڑی سی روشنی ڈالتے ہیں۔

ہندوستان، کہنے کو تو دنیا کی سب سےبڑی جمہوریت ہے،مگر پہلی حقیقت جس پر دنیا کی یہ بڑی جمہوریت مہر تصدیق ثبت کرتی ہے ، وہ جمہوریت کا ڈھونگ ہوناہے!کشمیر میں بھارت کے ان اقدامات نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا کہ جمہوریت دراصل ایک فریب ہے،ایک دھوکہ ہے، سراب ہے، یہ غالب اور طاقت ور اقلیت کی ،مغلوب اور کمزور اکثریت پر تسلط و حکومت کانام ہے، یہ صورت حال ہمیں بتاتی ہے کہ جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو اور جس کی گرفت میں دولت اور سرمایے کے خزانے ہوں،یہ جمہوریت بس اسی کے ہاتھ کا ہتھیار ہے۔ جب مقتدر طبقوں کی مرضی ہو تو یہ اپنے مفاد کوقانونی شکل دے دیتے ہیں، اس قانون کی تقدیس دلوں میں بٹھاتے ہیں اور اکثریت سے اس کی پوجا کراتے ہیں ۔ مگر جب یہ مفاد بدل جاتا ہے، خواہش اور مرضی جب تبدیل ہو جاتی ہے تو پھر اپنے ہی ہاتھوں اس ’مقدس‘ قانون کو پامال کرتے ہیں اور اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں ۔ یہاں اس مقتدر طبقہ نے اپنے آئین میں درج کر رکھا تھاکہ کشمیر کے اندر کوئی قانون،کشمیری نمائندوں کی رضامندی کے بغیر نہیں بنے گا، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس سب اس قانون کو آرٹیکل 370 کا نا م دیتے تھے اور اسے آئین کی مستقل شق بتاتے تھے، مگر جب اسے تبدیل کرنے کا ارادہ ہوا تو ایک طرف سوا کروڑکشمیری مسلمانوں کی زبان بندی کرنے، انہیں دبانے اور کچلنے کے لیے لاکھوں کی فوج حرکت میں لائی گئی، گلی گلی اور گھرگھر کے سامنے فوجی کھڑے کیے گیےاور ہر نعرہ او ہر اجتماع کو جرم قرار دیا گیاتو دوسری طرف انہی غاصبوں اور ظالموں نے دور دہلی میں بیٹھ کر اس مجبور و مظلوم قوم سے متعلق فیصلہ صادر کردیا،اُس قانون کوبیک جنبش قلم ختم کردیااور اس اقدام کو عین آئینی اور جمہوری بھی اعلان کیا ۔یہی جمہوریت ہے!

حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت پاکستان کی ہو یابھارت کی ، اس کی ظاہری صورت خوبصورت ہو یا بدصورت، اس کے اندر کی بدروح ہمیشہ یہی غالب اقلیت کا مفاد ہوتا ہے، جس ہاتھ میں طاقت ہو یہ اسی ہاتھ کاکرشمہ ہوتا ہے ۔

ہر جگہ طاقت و دولت کے زور پر مسلط ان فریب کاروں کے پاس پھر میڈیا نام کی جادو کی چھڑ ی بھی ہوتی ہے، جس سے جب چاہیں عوام کو ہنساتے ہیں اور جب چاہیں انہیں رلاتے ہیں،یہ جادوگر میڈیا ہی ہے جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بتاتاہے، اس کا کام تباہی و بربادی کو تعمیرو آبادی دکھانا اور اقلیت کی خواہشات کو اکثریت کی امنگیں ثابت کرنا ہوتاہے۔لہٰذا مشرق ہو یا مغرب ہر جگہ حقیقی جمہوریت یہی دھوکہ ا ور فریب ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ کہیں لاٹھی نظرآتی ہے اور کہیں دولت و طاقت پردوں کے پیچھے سے اثر دکھاتی ہے ۔

دوسری حقیقت جو یہ واقعات، بغیر کسی ابہام کے، ایک دفعہ پھرہمیں بتاتے ہیں، وہ یہ کہ ؛ غاصب کے آگے حقوق کی بھیک مانگنے سے حقوق کبھی نہیں ملا کرتے،ظالم کے خلاف پر امن جدو جہد کرنے سےوہ ظلم سے کبھی باز نہیں آتا ،مسلمانانِ کشمیر کو جہاد و قتال چھوڑنے پرمجبور کرنے اور انہیں سیاسی جدو جہد کی پٹیاں پڑھانے والوں کو آج یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ بھارتی مظالم میں اضافہ ہی تب ہوا جب امتِ مسلمہ کو بھارت کے مقابل جہاد و قتال کی زبان بولنے کی جگہ مسلمانان کشمیر کے ساتھ محض خالی خولی اظہارِ یکجہتی کا راستہ دکھایا گیا۔امن کی زبان تو صرف اُس کے ساتھ بولی جاتی ہے جو خود پر امن ہو ،جارح نہ ہو اورجو خود منطق کی قوت اور افہام و تفہیم کاذریعہ استعمال کر تا ہو، مگر طاقت ہی جس کی منطق ہو ، جو ظلم وجبر اور ہتھیار ہی کے بل پردوسروں کو دبا رہا ہو، تاریخ شاہد ہے کہ ایسے ظالم کے آگے پرامن رہنا خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے حقوق سے دستبردار ہونا ہے۔تکوینی اصول ہے کہ لوہا ہی لوہے کو کاٹتا ہے۔ظلم وجبر اور سرکشی و طغیان کواگر کوئی چیز لگام دے سکتی ہے تو وہ حق کی تلوار ہے ، اگر محض مذاکرات کی بھیک ، مذمتی قراردادو ں اور یکجہتی کے مظاہروں سے غصب شدہ حقوق لیے جاسکتے ہوتے تو کشمیر سے فلسطین تک کے مسلمانوں کی اشک شَوئی ہوچکی ہوتی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ قرآن مجید میں ہم مسلمانوں کو ، جن کی ذمہ داری ہی دنیا کو ظلم وفساد سے پاک کرنا ہے ، باطل کے ساتھ تعامل کی زبان سمجھاتا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالی قوت و طاقت کے ذریعے فساد پھیلانے والوں کے ساتھ تعاون یا سمجھوتہ کرنے، اورجارح و جابرکے مقابل پرامن رہنے کادرس نہیں دیتا،اللہ تو اہل ایمان کو ایسے ظالموں کےخلاف کتب علیکم القتال فرما کر جہاد فرض کرتا ہے، اور ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾ اعلان کر کے ان کے خلاف اُس وقت تک لڑتے رہنے کا حکم صادر کرتا ہے جب تک فتنہ وفساد ختم نہ ہو اور اللہ کا دین غالب نہ ہو۔سورۃ الانفال میں اللہ و رسول ﷺکی اطاعت کی تاکید کرنے اور جہاد و قتال کی ترغیب دینے کے بعد اللہ رب العزت فرماتاہے ؛يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا’’اے ایمان والو!‘‘ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ’’اللہ اور رسول کی ندا پر لبیک کہو‘‘ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ’’جب وہ تمہیں اس عمل کی طرف بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے ‘‘

گویا اس امت کی عزت و زندگی اللہ نے اپنی اطاعت اور اس اطاعت ہی کے تحت جہاد وقتال میں رکھی ہے ، لیکن یہ جہاد اگر نہ ہو، توڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے جم غفیر کی حیثیت بھی حدیث کے مطابق اس دسترخوان کی سی ہوگی جس پر دشمن بھوکوں کی طرح ہر طرف سے ٹوٹ پڑتے ہیں۔لہٰذا ذلت و پستی سے نکلنے کا راستہ جہا د وقتال ہے، وہ قتال جو اللہ کی اطاعت میں ہواور جو جہاد فی سبیل اللہ ہو اور جہاد فی سبیل اللہ وہ ہے جس کا مقصد اللہ کی رضا ، اللہ کی شریعت کا نفاذ اور مظلوموں کی مدد و نصرت ہو۔

تیسری حقیقت جو کشمیر کے حالیہ واقعات سے ایک دفعہ پھر کھل کر واضح ہوئی ہے وہ یہ؛ کہ پاکستانی جرنیلوں اورحکمرانو ں کی فطرت خودغرضی ، منافقت اور خیانت پر مبنی ہے اور ان کا یہ طرزِ عمل ہی ہے کہ جس کے سبب آج مسلمانان ِ کشمیر پر ظلم و جبر میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ظلم وجبر کی وجہ ہی یہ ہے کہ مشرک ہندؤں نے آج ہمارےان بھائیوں کو تنہااور بالکل نہتا سمجھ لیا ہے۔بھارت کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ نہ ا مت مسلمہ کے ہتھیارو وسائل مسلمانان کشمیر کے کام آئیں گے اور نہ ہی امت کی کوئی جہادی تحریک کشمیر میں کبھی قدم رکھ سکے گی ۔ یہ یقین دہانی کس نے کرائی ہے؟ وہ کون ہیں جو مجاہدین اور امت کے وسائل کو کشمیر میں داخل ہونے سے روکتےہیں؟ یہ پاکستانی جرنیل اور حکمران ہیں ! ان خائنین کا کشمیر میں بعینہ وہی کردار ہے جو عرب ممالک کی افواج اور حکمرانوں کا فلسطین میں ہے ۔ عرب افواج کا کام مجاہدین ِ امت کے خلاف فلسطین کی سرحدوں کو سیل کرنا ، مسلمانان فلسطین کو اسرائیل کے سامنے تنہا کرنا اورامت مسلمہ کی جہادی تحریکوں کو ختم کرنا ہے ۔ حال ہی میں امریکی صدر نے جب کہا کہ سعودی عرب کاشاہی خاندان اگر نہ ہوتو اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گاتو یہ ا س نے کوئی غلط بات نہیں کی، یہ سو فیصد صحیح ہے،یہی ان افواج و حکمرانوں کی حقیقت ہے ،بالکل یہی کردار یہاں کشمیر میں پاکستانی فوج اور اس کی ایجنسیوں کا ہے ۔ یہاں کے جرنیلوں کی یہ خودغرضانہ اور بزدلانہ روش اگر نہ ہوتی ، یہ امت کے جہادی لشکروں کو وادیٔ کشمیر میں داخل ہونے سے اگر نہ روکتے اور وادی کے اندر کی جہادی تحریک کو اپنا ماتحت اور محتاج رکھنے کے مذموم ہتھکنڈے اگراستعمال نہ کرتے تو آج کشمیر کا یہ دل سوز منظر نہ ہوتا ، آج یہ بزدل اور گیدڑ صفت ہندوشیر بن کر ہمارے بھائیوں پرا س طرح کبھی نہ غراتا۔

[فصیلۃ الشیخ ایمن الظواہری حفظه الله کا ویڈیو کلپ]

’’یہی وجہ ہے کہ عرب مجاہدین بھی افغانستان سے روس کی شکست کے بعد جہادِ کشمیر کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ مگر امریکہ کی غلام پاکستانی حکومت اور فوج ان کے راستے کی رکاوٹ بنیں۔ پاکستانی حکومت اور فوج کا مجاہدینِ کشمیر کے ساتھ بھی وہی برتاؤ ہے جو روس کے انخلا کے بعد انہوں نے عرب مجاہدین، امارت اسلامیہ یا دیگرمہاجرین کے ساتھ کیا۔ پاکستانی فوج اور حکومت کی تمام تر دلچسپی مجاہدینِ کشمیر کو اپنے خاص سیاسی مقاصد کے حصول میں استعمال کرنے میں ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے بعد یہ ان مجاہدین کو دبا دینا چاتے ہیں یا ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں فائدہ اٹھانے والوں کا یہ خائن جتھہ بچتا ہے جن کی تجوریاں رشوت اور حرام مال سے بھری ہوئی ہیں ۔ ‘‘

پلوامہ واقعے کے بعد بھارتی جہاز پاکستان نے گرایا مگر اس کا فائدہ سارا کا سارا مودی کی جھولی میں ڈالا گیا۔جہاز کے پائلٹ کو عزت و اکرام کے ساتھ واپس لوٹایا گیا ، جہادِکشمیر سے ایک دفعہ پھر برأت کی گئی ، اسے دہشت گردی کہا گیا، پاکستان کےاندر بچی کھچی کشمیری جماعتوں کو غیر مسلح کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ، ان جماعتوں کی مساجد، دفاتر او ر گاڑیاں حکومتی تحویل میں لی گئیں اور اعلان کیاگیاکہ جہاد ِکشمیر کی دعوت تک پر بھی یہاں مکمل طور پر پابندی ہوگی ۔

[عمران خان (پاکستانی وزیرِ اعظم) کا کلپ]

’’میں آج آپ کو ایک بات بتا دوں، کہ اگر کوئی بھی… یا پاکستان سے جا کے ہندوستان میں… وہ سمجھتا ہے کہ کشمیر میں وہ لڑے گا یا وہ جہاد کرے گا۔ وہ سب سے پہلے ظلم کرے گا کشمیریوں سے۔ اگر کسی طرح ، کسی نے یہاں سے کوئی حرکت کی … میں کہنے لگا ہوں : ’وہ پاکستان کا بھی دشمن ہے ، وہ کشمیریوں کا بھی دشمن ہو گا!‘۔‘‘

ان واقعات نے گویاپاکستانی فوج اور حکمرانوں کی بزدلی و خودغرضی اور منافقت و خیانت کاپردہ ایک دفعہ پھر چاک کردیا ،اس فوج کا اصل مطمحِ نظر محض اپنا مفاد تھا ،مفاد ہے اورمفاد رہے گا ،مسلمانان کشمیر کی نصرت کی خاطر یہ اپنی عیاشیاں اور مفاد خطرے میں ڈالیں ؟ یہ کبھی نہیں ہو سکتا ،ان کے مفاد محفوظ ہوں تو کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ بھی توڑے جاتے ہوں ، یہ کبھی ٹَس سے مَس نہیں ہوں گے ۔

[شہید ذاکر موسیٰ رحة الله عليه کا صوتی کلپ]

’’میرے محترم بھائیو!

اس بات کو سمجھیےکہ جب پاکستان کی حکومت پر زخم لگےتو یہ ایک دن میں ہندوستان سے جنگ کے لیے تیار ہوگئےاور جب کشمیر میں ہماری کسی ماں کے جگر پر زخم لگتے رہے،جب ہمارے بہنوں کی روح پر زخم لگتے رہے ،جب ہمارے بھائیوں کے جسموں پر زخم لگتے رہےتب یہ حکومت ہندوستان سے دوستی اور وفاداری کی باتیں کرتی ہے ۔ایسی کیا بات ہے کہ انہوں نے تب اپنے جہاز نہیں اُڑائے ! جب آسیہ اور نیلوفر کا خون اس زمین پر گرا تھا ،جب شوپیان اور پلگام میں مجاہدین کی جلی لاشیں وارثین کو ملیں ،جب ۲۰۰۸ء، ۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۶ء میں ہمارے بچوں کے سینے ہندوستانی گولیوں سے بھردیے گیے۔یاد رکھیے ان کو آپ سے کوئی محبت نہیں ہے۔جیسے کہ میرے عزیز ساتھی ریحانؒ نے فرمایا تھاکہ ان ملکوں کا کوئی ایمان نہیں ہوتا ہے ان ملکوں کا صرف مفاد ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں پاکستانی حکومت اور ہندوستان کےکافروں کی سازشوں سے محفوظ رکھیں ۔ ‘‘

لہٰذایہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ کشمیری مسلمان جس حالت زار سے آج دو چار ہیں ، اس کا سبب ظلم اور خیانت کے دو پاٹ ہیں اورا ن دوکے بیچ ہی یہ پِس رہے ہیں، ظلم ہندؤں کا ہے ا ور خیانت پاکستانی جرنیلوں کی ہے۔ کشمیری مسلمان ہندوؤں کےظلم کے خلاف توکھڑے ہوں مگر اس خیانت کا وہ علاج نہ کریں جو ہمیشہ ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپتی ہے، تو یہ معرکہ کبھی سر نہیں ہو گا ، انہیں ہندوؤں کے ظلم کے ساتھ ساتھ پاکستانی جرنیلوں کی خیانت کا بھی بندوبست کرنا ہوگا، ایسا ہوگا تو تب ہی کہیں جاکر وہ صبح طلوع ہوسکتی ہے جسے دیکھنے کے لیے عشروں سے یہ عظیم قوم قربانیاں دے رہی ہے۔

چوتھا نکتہ جو ایک دفعہ پھرایک کھلی حقیقت بن کر ہمارے سامنے آرہا ہے ، وہ اقوام متحدہ کا ظالم اور مسلم دشمن ہونا ہے۔ اقوام متحدہ، جوپانچ ڈاکوؤں کی دنیا پر چودھراہٹ کا نام ہے ،اس کی اسلام دشمنی کی یہ حقیقت اس کی تشکیل، اس کی ساخت اور اس کی پوری تاریخ سے واضح ہے ،کشمیر میں ہندو فوج کے مظالم اپنی انتہا کو پہنچ رہے ہیں، مسلمانان کشمیر کی کان پھاڑتی چیخیں پوری دنیا کو سنائی دے رہی ہیں مگر اقوام متحدہ ہے کہ جس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، پانچ بڑےمجرمین ، جن کے پاس ویٹو کا اختیار ہے ، ان کا اجلاس بند کمرے میں شروع ہوا اور بند زبانوں کے ساتھ ختم بھی ہوا،لیکن نتیجہ کیا نکلا ؟ کسی کو کچھ نہیں پتہ ! ظالم ہندوؤں کو ظلم سے روکنا تو دور کی بات ہے ا ن کے ظلم کو ظلم بھی نہیں کہا گیا ۔کیوں ؟اس لیے کہ ﴿ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾… کافر اور ظالم ایک دوسرے کے دوست و معاون ہوتے ہیں ،پھر بھارت کے ظلم پر اس کا ساتھ دینا ان پانچ مجرمین کی تجارتی اور سیاسی ضرورت بھی ہے ۔کشمیر ، چیچنیا و ترکستان سے لےکر شام و فلسطین تک امت مسلمہ کے ہر معاملہ میں اس کا کردار یہی ظالمانہ اور دشمنانہ رہا ہے ۔ پس چوتھی حقیقت جو کہ ہمیں تسلیم کرنی ہوگی وہ اقوام متحدہ کا یہ اسلام دشمن ، مسلم دشمن اور انسان دشمن کردار ہے ۔یہ ماننا ہوگا کہ اس سے کسی قسم کی خیر کی توقع رکھنا وحشی اور بے رحم دشمن سے رحم کی امید کرنا ہے۔

یہ وہ حقائق ہیں جن کو نظر انداز اگر کیا گیا ، ان کے بیچ راستہ و طریق اگر نہ تراشا گیا تو مصائب در مصائب اور مظلومی در مظلومی کا یہ دور کبھی ختم نہیں ہوگا، ظلم وجبر کی یہ جواندھیری رات ہے ، یہ طویل سے طویل تر تو ہوگی، اس کی کالی گھٹائیں پھیلتی تو جائیں گی مگر وہ صبح پُر نور کبھی نمودار نہیں ہوگی جس کے لیے کشمیر سے آسام تک برصغیر کی یہ زمین ترستی آ رہی ہے اور جس کے انتظار میں خراسان سےدہلی تک کے مسلمانوں کی آنکھیں پتھرا گئی ہیں ۔

عزیز بھائیو! وادیٔ کشمیر میں حریت اور فدائیت کا جذبہ پہلے بھی کبھی ماند نہیں پڑا ہے ، مشرک ہندوؤں کے خلاف جذبۂ قتال بھی الحمد للہ یہاں ہمیشہ زندہ رہا ہے ، لیکن یہ وادی عرصہ دراز سے ایک ایسی تحریک کا رستہ دیکھ رہی تھی کہ جس کی منزل ظلم وکفرکی ہر صورت سے آزادی اور اللہ کی مبارک شریعت کا نفاذ ہو ، ایسی تحریک کا یہاں انتظار تھا جو دعوت وجہاد اور اتباع ِشریعت ہی کواپنا راستہ سمجھتی ہو اور جو ہندو فوج کے مقابل تلوار کی زبان بولنے کے سوا کوئی اور زبان جانتی ہی نہ ہو ، اُس تحریک کے لیے یہاں کی یہ سرزمین پیاسی تھی کہ جس کو دنیا کی کوئی فریب کار ایجنسی اپنے روبہ منزل سفر سے ایک انچ بھی نہ ہٹا سکے اور جو اپنے اس جہاد میں کسی دین دشمن اور منافق فوج کی ماتحتی کے لیے تیار کبھی نہ ہو۔ اہل ایمان دست بدعاتھے کہ یہاں کشمیر میں وہ تحریک اٹھے اور طوفان کی طرح برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے جو وطنیت اور قومیت کے لات ومنات پر تیشہ چلانے والی ہو اورجو سینوں کو تمام تر تعصبات سے پاک کرکے انہیں للہیت، اسلامیت اور ایمانی اخوت سے معطر کرنے والی ہو، وادیٔ کشمیر کوایسی تحریک کی ضرورت تھی کہ جس کی پہچان “أشداء علی الکفار”کفار کے لے انتہائی سخت ہونا اور” رحماء بینھم” مسلمانوں کے لیے انتہائی نرم ہونا ہو اور جو تنظیموں و جماعتوں کے بیچ فاصلوں کو محبت و اخوت سے پاٹ دے اور انہیں ایک نصب العین اور ایک طریق کار دےکر’’بنیان مرصوص‘‘ (یعنی سیسہ پلائی دیوار) میں تبدیل کردے۔

الحمد للہ ، ثم الحمد للہ آج وادی کشمیر کے افق پر یہ أبر رحمت پوری دنیا کونظر آنے لگا ہے ، آج یہ تحریک یہاں کشمیر میں انگڑائی لے چکی ہے اور برصغیر کے ہر مظلوم و محروم کو اس میں اپنی نجات اور فلاح نظر آتی ہے۔ اس مبارک تحریک کی قوتِ تسخیر اس کی دعوت وپیغام ، اس کے کردار وجہاد اور اللہ پر اس کے توکل میں ہے ، یہ کسی خاص گروہ یا جماعت کی نہیں ،وادی کشمیر کے تمام اہل ایمان اور مسلمانان ِبرصغیر سمیت پوری امت کی تحریک ہے۔ برہان وانی ، ذاکر موسیٰ ، مفتی ہلال، سبزار احمد بھٹ اور ریحان خان جیسوں کے خون نے اس خواب میں رنگ بھر دیا ہے اور آج پورے کا پورا کشمیر ، الحمد للہ ’شریعت یا شہادت ‘ کے نعروں سے گونجتے ہوئے اس قافلے کےہم رکاب کھڑا ہے۔

یقین رکھیے برصغیر کے میرے عزیز بھائیو!

یہ اُسی تحریک کاآغاز ہے کہ جو خراسان سے چٹاگانگ اور سندھ سے ہند تک ظلم وکفر کے علم برداروں کو تیہ تیغ کر ڈالے گی اورپورے برصغیر کو کلمۂ توحید کے پرچم تلے لاکر یہاں عدل و انصاف کی بہاریں لائے گی ، اس کا ایک پڑا ؤ اگر آج خراسان کے دشت و صحرا ہیں تو دوسرا کشمیر و دہلی اور تیسرا پھر بیت المقدس ہوگا ، اس کے راستے میں پہاڑ جتنی رکاوٹیں بھی کبھی رکاوٹ نہیں رہیں گی ، وقت کےفراعنہ اور ابوجہل لاکھ اسے روکنا چاہیں ، یہ رکے گی نہیں ،بلکہ یہ اللہ کے اذن سے پہاڑوں اور دریاؤں کا سینہ چیرکر آگے بڑھے گی اور دنیا دیکھ لے گی کہ اس کے مقابل سب طواغیت اور اس کے راستے میں حائل یہ سب خائنین بالکل اسی طرح نامراد نظر آئیں گے ، جیسا کہ آج امت کے یہ غدار اور یہ خائن خراسان میں اس مبارک تحریک کے آگے مجبور نظر آتے ہیں۔ امارت اسلامی افغانستان کی یہاں یہ کامیابی اورا س کے سامنے عرب و عجم کے طواغیت کی یہ ناکامی برصغیر میں آگے بڑھتی اس تحریک ِ جہاد کا مستقبل بتا رہی ہے ۔ جن کے دلوں کی آنکھیں بینا ہوں اور جو اپنے رب کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوں وہ مستقبل کا منظرنامہ آج بھی چشم تصور سے دیکھ رہے ہیں کہ وادیٔ کشمیر میں جمتی یہ مبارک تحریک کفار و منافقین کی تمام تر رکاوٹوں کو بہاتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے اور ’شریعت یا شہادت ‘ کا یہ عظیم قافلہ برصغیر پر قابض ان مشرک ا ور خائن حکمرانوں کے تخت روندتے اور تاج اچھالتے ہوئے ارض قدس کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ پس وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو اپنے آپ کواس عظیم قافلے کے انصار بنائیں اوراس فاتح لشکر کی تیاری میں اپنا خون پسینہ بہائیں۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس جہاد میں شامل ہوکر اپنے لیے جہنم سے خلاصی کا سامان پیدا کرے۔

رسول اللہﷺ کا فرمان مبارک ہے: عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ’ میری امت میں سے دو گروہوں کو اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ کیا ہے‘: عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ،’ا یک وہ جو ہند کے خلاف لڑے گا‘ وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ’اور دوسرا وہ جو عیسی علیہ السلام کے ساتھ مل کر جہاد کرےگا ‘۔

عزیز بھائیو!اپنی یہ گفتگو مسلمانان برصغیر کے نام اس درخواست پر ختم کرتا ہو ں کہ اللہ نے ہم میں سے ہرا یک کو جس نعمت و صلاحیت سے نوازا ہے، روزقیامت اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ،لہٰذا تمام اہل ایمان سے یہ گزارش ہے کہ اپنی جان و مال سے کشمیر میں اٹھتی اس مبارک تحریکِ جہاد کی نصرت کیجیے۔تذکیراًیہ بھی عرض کرتاہوں کہ بھارت کے خلاف میدانِ قتال وادی کشمیر تک محدود مت سمجھیے، ہندوستانی فوج اور ہند کےیہ مشرک حکمران بھارت کے اندر یا اس سے باہر جہاں بھی ملیں ، ان پر ضربیں لگائیے ، آپ کی یہ ضربیں انشاء اللہ ایک عظیم تبدیلی پر منتج ہوں گی اوراس سے کشمیری بھائیوں پر کسا یہ شکنجہ ضرور بالضرور ڈھیلا پڑے گا ۔ اسی طرح زبان و قلم سے بھی تحریک جہاد کو تقویت دیجیے اور اس تحریک کی دعوت و مبادی عام کرنے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیے ۔

ذراتصور کیجیے کہ قیامت کا روز ہے ، اللہ کے سامنے ہم کھڑے ہیں اور تب پوچھا جائے کہ جب انفروا خفافاً و ثقالا کی پکاریں لگ رہی تھیں اُس وقت تم کیوں اپنی چار دن کی زندگی میں مگن ، میدان ِ عمل سے دور تماشہ دیکھ رہےتھے؟ اوریاد رکھیے! آپ کے پاس جوصلاحیت ، جو وسائل اور جو بھی ہتھیار ہیں ، ان پر کسی ادارے اور حکومت کا نہیں ،اس امت کے مظلوم مسلمانوں کا حق ہے ۔ یہ وسائل و ہتھیاراس امت مظلومہ کی امانت ہیں ، پس انہیں مظلومین ِ امت ہی کے دفاع میں استعمال کیجیے اور ان سے کشمیر میں محصور اپنے بھائیوں کی دادرسی کیجیے،لیکن اگر آپ ایسا نہیں کرتے ہیں تو یاد رکھیے ، اللہ کے دربار میں ان کے بارے میں اُس وقت پوچھا جائے گا جب کوئی ادارہ ، کوئی جرنیل ا ور کوئی حکمران اللہ کی پکڑ سے پھر نہیں بچا سکے گا۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے’’مَا مِنِ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْطِنٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ’کوئی بھی آدمی کسی مسلمان کو ایسی حالت میں بے یار ومددگار اگر چھوڑے کہ جب اس کی حرمت پامال ہو رہی ہو ‘ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ’اور اس کی عزت پر ہاتھ ڈالا جا رہا ہو‘ إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ’تو اللہ اس کو ایسے وقت میں بے آسرا چھوڑ ے گا جب اسے مدد کی ضرورت ہوگی‘۔اللہ ہمیں مسلمانان ِ کشمیر کی نصرت کی توفیق دے اور اللہ برصغیر میں اٹھتی اس عظیم جہادی تحریک کے سپاہی اور انصار ہمیں بنادے،آمین یا رب العالمین ۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ ربّ العالمین۔

ڈاؤن لوڈ | Download

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ ربّ العالمین و الصلاۃ و السلام علی رسولہ الکریم

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي۔

My dear Muslim brothers of Kashmir, Pakistan and the Subcontinent!

Assalamu Alaikum wa Rahmatullah wa Barakatuhu!

The current state of affairs in Kashmir, in which Article 370 was abrogated along with a very long and strictly imposed curfew, the Kashmir of more than 12.5 million Muslims, became the worst prison. All forms of mass communication are completely prohibited; it has been ensured that news does not leak out from any nook or cranny and amidst this terrible silence, our Kashmiri brothers face oppression at its worst. This situation is extremely extraordinary and depicts not only the arrogance and obstinacy of India but also her future malevolent designs. It makes it clear that to stamp out the religious ardour of Muslims, to uproot their liberation movement, and to convert their status from a majority in Kashmir to a minority, they shall continue to employ all draconian tactics in the future too. And after committing the most grievous violations against humanity and civility, they shall also shamelessly purport it as valid and legitimate.

Dear Brothers! Are we to merely observe this oppression and put up a show of giving useless comments, empty slogans and perfunctory support or have we been made responsible for some serious action by Allah? The truth is, that all that is taking place, is a trial for us. These incidents pose a question mark on the faith of every Muslim. If our hearts fail to perceive the pain of our brothers, or if we do feel their pain, but that feeling fails to motivate us to take any sincere practical action, then the reality is that we cannot be Muslims in the true sense. The Messenger of Allah, peace be upon him, said:

المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولايسلمه

‘A Muslim is a brother to (his fellow) Muslim, he neither oppresses him, nor leaves him being oppressed (by others).’

It is an obligation to help our oppressed brothers, and to stay the hand of the oppressors, but dear brothers! The reality is that, an end can only be brought to the injustice in Kashmir when we, as an Ummah, realise those facts, which have been proven true once more by these recent incidents. It is these facts which tell us the difference between reality and illusion and exhort that without this differentiation, neither can we reach the goal of liberty, nor can we seize back our Islamic rights from the oppressors and usurpers. These realities are absolutely evident and not vague, and from Kashmir and Turkistan, to Palestine and Syria, they show the oppressed of this Ummah; the path to victory which is simple, straight and expansive!

Let’s shed some light on these facts…

India, is known as the world’s biggest democracy, but this biggest democracy itself reinforces the very first reality, that democracy is a farce. The measures that India has recently taken in Kashmir have once more confirmed that democracy is indeed a deception, a fraud, an illusion.it is the rule and control of a dominant and powerful minority over a dominated and weak majority.

This situation tells us that democracy is the tool for the one with the might, and one who possesses wealth and capital. When the dominating class so desires, they give their interests a legal form, and inculcate the sacredness of this law in the hearts of the masses and make the majority idolize this law. But when their interests change, their will and desire changes, then they violate this ‘sacred’ law by their own hands and discard it. Here, this ruling class had stated in their constitution that no law can be passed without the approval of Kashmiri representatives, in Kashmir. The Supreme Court and the High Courts, all accepted and called this law as Article 370, and named it as a permanent clause of the constitution. But when they intended to change it, on one hand, an army of millions was brought into action to suppress the voice of 12.5 Million Kashmiri Muslims. To quell them and crush them, hundreds and thousands of army personnel were deployed in every street and in front of every house, every slogan and all gatherings were declared a crime. On the other hand, the usurpers and oppressors sitting far in Delhi decided the fate of this compelled and oppressed nation and with a single stroke of the pen, they abrogated the law and then declared this act to be completely in line with the constitution, and democracy. This is democracy!

The reality is that, democracy, whether it be of Pakistan or India, whether it appears attractive or unattractive, but the evil spirit within remains the interest of the dominant minority. It is the charm of the powerful. Everywhere these fraudsters imposed upon us on the basis of power and money, also possess the magic wand of Media, with which they make the masses laugh and they make them cry; when they wish. Media is the magician which portrays the truth as falsehood, and falsehood as truth. Its purpose is to show ruin and destruction as construction and prosperity and to prove the desires of the minority to be the aspirations of the majority.

So, whether it be East or West, everywhere real democracy comprises of this deception and delusion. The difference is merely this that in some places, the stick can be seen, while in other places, democracy works its charm of wealth and power from behind the curtains.

The second reality that these incidents once again explain to us, with certainty and without any doubt is that rights cannot be acquired from the usurper by asking for them in charity. Peaceful struggle against the oppressor can never bring an end to his oppression. Those who compel the Muslims of Kashmir to abandon Jihad and Qital and to take up political struggle instead, should now admit that the oppression and tyranny of India increased, only after the Muslim Ummah in lieu of the Jihad and Qital against India, was shown the path of empty and perfunctory support for the Muslims of Kashmir.

A peaceful tone is used with those who are themselves peaceful, who are not aggressive, and who themselves use the power of logic, reasoning, dialogue and comprehension. But the one who uses no logic but power, who quells others with oppression, tyranny, history testifies, that to remain peaceful against such an oppressor is to withdraw from your rights by your own design. It is a universal principle that diamond cuts diamond.

If anything can put a stop to injustice and tyranny, rebellion and oppression, then it is the sword of Haq (rectitude). If mere dialogues, resolutions of condemnation and demonstrations of unity and support could restore usurped rights, then the sufferings of the Muslims from Kashmir to Palestine could be recompensed. This is the same reality that Allah, the Lord, the Almighty, explains to us in the Holy Quran. We (Muslims) who have been given the responsibility of purging the world from corruption and injustice, are taught the language in which to deal with Batil (wrong). Allah does not command us to compromise or cooperate with those who spread corruption on the basis of power and force and does not bid us to remain peaceful against the offender and oppressor, rather He the Almighty enjoins upon us Jihad against such oppressors. He says: کتب علیکم القتال “Fighting is enjoined upon you” and ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾ “And fight them until there is no Fitnah (mischief), and total obedience becomes for Allah.” We are commanded to fight against them until all corruption and mischief comes to an end, and the religion of Allah becomes sovereign. In Al Anfal, after the exhortation of obedience to Allah and His Messenger and calling towards Jihad and Qital. Allah SWT says: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ“O you who believe, respond to Allah and the Messenger when He calls you to what gives you life”. That is to say that Allah has placed the life and honour of this Ummah in obedience to Him and in Jihad and Qital as a gesture of obedience. But if not for Jihad, then this multitude of over 1.5 billion Muslims, according to the Hadith; merits to no more than a meal spread upon which the enemy rushes as if starving and ravenous for food. So, the way out of abasement and decline is Jihad and Qital. The Qital which is in obedience to Allah and which is Jihad in the way of Allah. And Jihad in the way of Allah is that Jihad whose purpose is to achieve Allah’s approval, the establishment of His Shariah and to help and support the oppressed.

The third reality that these recent events that occurred in Kashmir, have once more made clear, is that the inherent disposition of Pakistani military generals and rulers comprises of selfishness, hypocrisy and corruption and it is their conduct due to which the injustice and oppression upon Kashmiri Muslims has escalated. Today, the reason for this oppression and tyranny is that the polytheist Hindus consider our brothers completely on their own and defenceless. India is certain that neither will the weapons and resources of the Muslim Ummah come to the aid of the Kashmiri Muslims nor will any Jihadi movement ever be able to set foot in Kashmir. Who gave them this assurance? Who are those who prevent the Mujahidīn and the resources of the Ummah from entering into Kashmir? They are the Rulers and military Generals of Pakistan!

These traitors play exactly the same role in Kashmir which the armies and rulers of the Arab States play in Palestine. The role of the Arab armies is to seal the borders of Palestine against the Mujahidīn of the Ummah, to abandon the Muslims of Palestine against Israel and to terminate the Jihadi movements of the Muslim Ummah. Only recently, when the American president stated that were it not for the royal family of Saudi Arabia, the existence of Israel would be jeopardized. This was not a fickle statement. It is hundred percent true. This is the reality of these rulers and these armies. The Pakistani army and its agencies play exactly the same part here in Kashmir. If only these generals didn’t have such a selfish and cowardly approach, if they didn’t prevent the Jihadi troops of the Ummah from entering into the valley of Kashmir and didn’t try to keep the jihadi movement inside the valley to be subservient and dependent upon them and use all condemnable means to achieve this end, then today Kashmir would not be presenting such a heart-rending scenario. Today these cowardly Hindus with the traits of a jackal would not be growling like a lion at our brothers.

[Video Clip of the honourable Shaykh Ayman al Zawahiri (may Allah protect him)]:

This is why the Arab Mujahidīn wanted to head to Kashmir after expelling the Russians from Afghanistan. However, the Pakistani govt. and Army- the toadies of America- were lying in wait for them. The policy of the Pakistani govt. and its disgraceful Army regarding the Kashmiri Mujahidīn is no different from its policy earlier regarding the Arab Mujahidīn after the Russian withdrawal- and later vis à vis the Islamic Emirate and its Mujahidīn and Emigrants. All the Pakistan Army and govt. are interested in is exploiting the Mujahidīn for specific political objectives, only to dump or persecute them later; the beneficiaries in the end being a bunch of traitors who fill their pockets with bribes and illegitimate wealth.

After the Pulwama incident, Pakistan shot down the Indian aircraft, but the fruits of the situation were left for (Narendra) Modi to gather. The pilot of the aircraft was returned with complete respect and honour, the jihad of Kashmir was once again renounced and dubbed as terrorism. It was assured that the remains of the Kashmiri (Jihadi) organizations will be disarmed. Their Masajid, offices and vehicles were taken into governmental custody and it was announced that even calling towards the jihad of Kashmir is completely prohibited.

[Video Clip of Imran Khan (Pakistani PM)]:

I want to tell you one thing today, if any one (thinks)… that he’ll go to India from Pakistan… and fight in Kashmir or do Jihad in Kashmir. This will be first of all, an act of oppression against the Kashmiris… if in any way, any one tries to do something from here (Pakistan)… I make it clear: “He’s an enemy of Pakistan, and also an enemy of the Kashmiris”.

These events once more exposed the selfishness, cowardliness, the hypocrisy and corruption of the Pakistani rulers and its army. The true objective of this army was, is and will always be its own interest. For the sake of providing assistance to Muslims of Kashmir, would they jeopardize their interests and comforts? It can never be!

[Audio Clip of Shaheed Zakir Musa (may Allah have mercy on him)]:

“My honourable brothers!

When the government of Pakistan suffers injury at the hands of India, then they ready themselves promptly for war. And when our mothers suffer in Kashmir, the souls of our sisters are tormented, the bodies of our brothers suffer from torture and wounds, this government talks of friendship and loyalty with the govt. of India. Why is it that their aircrafts never took flight when the blood of Aasia and Nilofar was spilled? When relatives received the burnt corpses of the Mujahidīn in Shopian and Pulgam? When in 2008, 2010 and 2016, the bodies of our children were shot with Indian bullets. Remember, they have no love for you. It is like my dear companion Rehan said that these states have no faith, they only have interests. May Allah SWT protect us from the plotting and conspiracies of the govt. of Pakistan and the infidels of India.”

If their interests have been taken care of, then even if the Muslims of Kashmir suffer extreme oppression, they won’t budge an inch. So, we shall have to accept this reality that the cause of the plight of the Kashmiri Muslims today is that they are being ground to dust between the millstones of oppression and treachery. The oppression is of the Hindus and the treachery is of the Pakistani generals. If the Muslims of Kashmir stand up against the oppression of the Hindus, but find no cure for the traitors who always stab them in the back, then this battle can never be won. Along with the oppression of the Hindus, they shall have to deal with the perfidiousness of the Pakistani generals too, only then the day shall dawn, for which this great nation has been giving innumerable sacrifices from decades.

The fourth fact that presents itself before us, once again as a plain and blatant reality, is the oppressive and anti-Muslim role of the United Nations. The United Nations is actually the hegemony of five robbers over the world. Its anti-Islam disposition is clear and apparent by its formation, structure and history. The brutality of the Indian army is at its peak in Kashmir, the whole world can hear the ear-splitting screams of the Muslims of Kashmir but the United Nations remains deaf to their cries. The conference of the five big criminals who hold the veto power, began behind closed doors and ended with sealed lips. But what was the outcome? Nobody knows! The oppression of Hindus was not even called oppression, to curb is beyond. Why? Because; ﴿ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾ “And those who disbelieve are friends to each other.”. The infidels and oppressors are friends and supporters of each other! To support India in its oppression is also the political and trade necessity of these five criminals. From Kashmir, Chechnya and Turkistan, till Syria and Palestine, the UN has played this same hostile and brutal role in every matter of the Muslim Ummah. So, the fourth reality that we shall have to acknowledge is the anti-Islamic, anti-Muslim and antihuman character of the United Nations. We have to admit that to expect any good from them is to expect mercy from a cruel and ruthless enemy.

These are the realities that if we ignore them, and do not carve a path between them, then this period of trials upon trials and oppression upon oppression shall never end. This pitch-black night of injustice and oppression shall drag on, and its darkness shall spread but that bright day shall never dawn, for which from Kashmir till Assam, the land of the subcontinent has been yearning. And in whose anticipation, the eyes of the Muslims from Khurasan till Delhi have turned to stone.

Dear brothers! The desire for freedom and the spirit of sacrificing everything to attain it, in Kashmir, has never dulled. The determination for jihad against the polytheistic Hindus, (all praise is due to Allah,) has always survived in the Valley. But this valley has long awaited the arrival of the movement, whose goal was liberation from all forms of injustice and infidelity (Kufr) and the establishment of Allah’s blessed Shariah.

It awaited the movement which believed Jihad, Da’wah and obedience to the Shariah to be its way and which knew no language other than that of the sword to deal with the Hindu army. The land longed for the movement which no deceptive agency of the world could lure even an inch away from its path, and which would never accept subservience to any anti-Islamic and hypocritic army. The faithful Muslims had their hands raised in supplication for the rise of the movement in Kashmir which would envelope the whole subcontinent like a tempest, which would cleave at the idols of nationalism and chauvinism and which would purify the hearts of all prejudices and odourise them with devotion to Allah and Islam and feelings of brotherhood based upon the relation of faith. The valley of Kashmir needed a movement whose identity would be; أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُم, hard on the disbelievers and compassionate for Muslims. The movement which would end the distances among the (Islamic) parties and organizations with feelings of love and brotherhood and would give them one objective and one modus operandi, and thus transform them into ” بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ” solid edifice.

All praise is due to Allah, today the whole world can see the clouds of mercy and benediction on the horizon of the Kashmir valley. Today this movement has been kindled here in Kashmir and every deprived and oppressed sees his deliverance and betterment and success in this movement. This blessed movement’s potential to conquer lies in its Da’wah and message, its character and jihad and its Tawakkul (trust and reliance) on Allah. This movement is not specific to any particular group or party, rather it is the movement of all the faithful believers in Kashmir, all the Muslims in the subcontinent and the whole Ummah.

The blood of the likes of Burhan Wani, Zakir Musa, Mufti Hilal, Sabzar Ahmed Bhat and Rehan Khan(رحمہم اللہ) has filled colours in this dream and today all of Kashmir, vibrant with the cries of “Shariah or Shahadah”, stands shoulder to shoulder with this caravan.

Be assured, my dear brothers of the subcontinent!

This is the beginning of the movement which will put to the sword all the standard-bearers of injustice and Kufr (infidelity) from Khurasan till Chittagong, and from Sindh to Hind (India). It shall bring the bounties of justice in the whole subcontinent under the standard of Tauheed. Today if it is encamped in the fields and deserts of Khurasan, then its second camp is Kashmir and Delhi and finally it would be in Jerusalem, and obstructions as big as mountains shall not be able to hinder it. No matter how much the Pharaohs and Abu Jahls of the time may try, but this movement shall not stop but with the permission of Allah, it will make its way through mountains and rivers and push on and the world shall see that all the Tawaghit (those who rebel against Allah and also impose their rebellion against the will of Allah upon others),who oppose them and the treacherous deceivers who hinder them shall come to grief, just like these traitors of the Ummah and these swindlers today, who seem helpless in front of this blessed movement in Khurasan.

The success of the Islamic Emirate of Afghanistan, and the defeat of all the Tawaghit against them foretells the future of this jihadi movement which is moving forth in the subcontinent. Those who believe in the promises of their Lord, and have insight, can even today visualize the scenario of the future, that this blessed movement which has taken root in the valley of Kashmiris overcoming all the obstacles that the infidels and the hypocrites have set up in its path and is proceeding forth this great caravan of “Shariah or Shahadah” is trampling the thrones and tossing away the crowns of the polytheistic and treacherous rulers, who occupy the subcontinent, and is pushing on towards the Holy Land (Palestine).Thus, those are fortunate who aid this great caravan and who spill their sweat and blood in the preparation of this victorious army. Fortunate are those who participate in this Jihad and thus create means to save themselves from the hellfire. The Messenger of Allah, peace be upon him, said:

عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ

“Two groups of my Ummah shall be saved from the hellfire by Allah, one who shall fight in al Hind (subcontinent) and the other who shall fight alongside Isa the son of Maryam (peace be upon him).”

Dear brothers!

I end my talk with this entreaty for the Muslims of the subcontinent, that all the talents and capabilities that Allah has blessed each one of us with, we shall be held accountable for them on the Day of Judgement. So I request all those who believe, to aid and assist with your lives and wealth, this blessed jihadi movement rising in Kashmir. As a reminder, I would also add that do not consider the battle front against India to be limited to Kashmir, wherever you find the Indian army and the polytheist rulers of India, within India and without, strike them. Your strikes shall, Allah willing, result in a great change, and it will certainly cause the stranglehold on our Kashmiri brothers to loosen. Likewise, strengthen this jihadi movement with your pens and your tongues, and take full part in spreading the Da’wah (message) and fundamentals of this movement. Just imagine the Day of Judgment, we stand before Allah for accountability and we are asked that when the summons of انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا “March forth (in the way of Allah), no matter whether you are light or heavy” were being cried out why were you, engrossed in this short-spanned life, watching the show far off from the field of action?

And remember!

All the potential, resources and weapons you possess, no institution or govt. has any claim over them, they are the right of the oppressed Muslims of this Ummah. These resources and weapons are entitled to this oppressed Ummah. So, use them in the defence of the oppressed of this Ummah and help out your besieged brothers in Kashmir with them. But if you fail to do so, then remember, you will be held accountable in the court of Allah about them, when no institution, no general and no ruler will be able to save you from the grasp of Allah. The Messenger of Allah, peace be upon him said:

مَا مِنِ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْطِنٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ

“Whosoever abandons a Muslim when his dignity is being trampled and his honour is being violated then Allah shall abandon him at a time when he shall be in dire need of help and support.”

May Allah give us the ability to aid and assist the Muslims of Kashmir and make us a sepoy and supporter of this great jihadi movement rising in the subcontinent.

Aameen.

آمین یا رب العالمین ۔وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

ڈاؤن لوڈ | Download

شاهد أيضاً

اداریے (3) – مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘ میں شائع ہونے والےاداریے : بقلم حافظ طیب نواز شہید رحمة الله عليہ

اداریے (3) – مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘ میں شائع ہونے والےاداریے : بقلم حافظ طیب …

شہادت : رتبہ اولی محبت کے قرینوں میں – مجاہدین کی ایک محفل میں فضیلتِ شہادت و شہداء کے متعلق گفتگو – حافظ صہیب غوری حفظہ اللہ

شہادت : رتبہ اولی محبت کے قرینوں میں – مجاہدین کی ایک محفل میں فضیلتِ …

اسلام تیرا دیس ہے تو مُصطفوی ہے! مسلمانانِ ہند کی خدمت میں محبت و اخوت کا پیغام – از استاد اسامہ محمود حفظہ اللہ

اسلام تیرا دیس ہے تو مُصطفوی ہے! مسلمانانِ ہند کی خدمت میں محبت و اخوت …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني.