اسلام تیرا دیس ہے تو مُصطفوی ہے! مسلمانانِ ہند کی خدمت میں محبت و اخوت کا پیغام – از استاد اسامہ محمود حفظہ اللہ

اسلام تیرا دیس ہے تو مُصطفوی ہے! مسلمانانِ ہند کی خدمت میں محبت و اخوت کا پیغام

از استاد اسامہ محمود حفظہ اللہ

 

ڈاؤن لوڈ | Download

بسم الله الرحمٰن الرحيم

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الكريم

برصغیر اور بالخصوص ہندوستان کے میرے عزیز مسلمان بھائیو!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

ہماری یہ گزارشات ہندوستان کے مسلمان بھائیوں کے نام ہیں ۔ علماءِ کرام ،داعیان ِ دین ، اصحابِ فکر ،نوجوانانِ اسلام اور ہندوستان کے وہ سب اہلِ دل ہمارے مخاطب ہیں جویہاں مسلمانوں کی حالت ِ زار پر دردمند اور ان کے مستقبل کے حوالہ سے فکر مند ہیں ، پھر محمدِ عربی ﷺ کےخاص وہ غلام ہمارے مخاطب ہیں جن کے چہرے نورِ ایمان سے روشن ہیں ، شرک وظلم کے اندھیروں سے جو دبنے اور ڈرنے والے نہیں ، اور جو کفر و الحاد کے طوفانوں کا مقابلہ کرنے اور اسلام دشمن سیلابوں کا رُخ اسلام ہی کے حق میں پھیرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

عزیز بھائیو!

تقسیمِ ہند سے لےکر آج تک …… اس پورے عرصہ میں ، ارضِ ہند پر مسلمانوں اور اسلام کے ساتھ کیے گئے ایک ایک ظلم پرآپ نگاہ ڈالیے……احمد آباد و گجرات کے فسادات ، بابری مسجدکی شہادت ، اس کی جگہ پرآج رام مندرکی تعمیر کا یہ سرکاری اعلان،’ گھرواپسی‘ کی ارتدادی مہم اور پھرشہریت کے قانون میں یہ مخصوص ترمیم ……یہ سب واقعات تومحض چند جھلکیاں ہیں ،جبکہ مظالم کی یہ روداد بہت طویل ہے اور آپ سے بہتر اس کی تاریخ کون جانتا ہے؟! ہندوستان کے طول و عرض میں اسلام اورمسلمانوں کے خلاف پکنے والی نفرت و عداوت آپ کے سامنے ہے اور جن کے پاس قوت و اختیار ہے ، ان کے اسلام دشمن منصوبے بھی آپ دیکھ ہی رہے ہیں ……عزیز بھائیو!یہ سب احوال کیا ہمارے لیے کوئی پیغام نہیں رکھتے ؟ کیا یہ دھواں کسی جلتی آگ کا پتہ نہیں دیتا؟ یہ واقعات ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ وہ موڑ کسی بھی وقت آنے والا ہے جو اصل میں ایک خطرنا ک کھائی کانام ہے ، ایسی کھائی کہ اگر تیاری کی جو موجودہ کیفیت ہے ، اس کے ساتھ ہمیں اس میں دھکیلا گیا تو اس سے بچ کرنکلنا بالکل ناممکن ہوگا ……سچ یہ ہے ہندوستان کے میرے عزیز بھائیو! ہم مانیں یا نہ مانیں ،تیاری کریں یا نہ کریں ، یہ حقیقت روز ِ روشن کی طرح واضح ہے کہ ارضِ ہند میں ایک انتہائی بھیانک طوفان ہماری طرف بڑھ رہاہے، ایسا بے رحم طوفان آگے بڑھ رہا ہے کہ جس کے تصور سے بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔اگر اس طوفان سے مقابلے کے لیے تیاری میں مزید تاخیر ہوئی تو اللہ نہ کرے کہ ہندوستان کی زمین بھی اس اندوہناک قیامت کانظارہ پیش کرے جس سے ابھی چند سال پہلے برما میں ہمارے مسلمان بھائی گزر چکے ہیں، وہ نظارہ کہ جس کے سوچنے سے بھی ہر صاحب ِ ایمان کی روح تڑپ جاتی ہے ۔

عزیز مسلمان بھائیو!

آپ ہی بتائیے……کیا کسی کو شک ہے کہ ہندوستان کی زمین ہم پر تنگ کرنے اور ہمارا خون بہانے کی یہاں ملک بھر میں تیاری ہو رہی ہے ؟! ہندو دہشت گرد تنظیمیں اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی …… اور عالمی طاقتوں کے تعاون سے ، پورے ہندوستان میں پھیل رہی ہیں ، عسکری ٹرنینگ حاصل کرر ہی ہیں۔ فوج، پولیس اورسب حکومتی اداروں پر ان دہشت گردوں کا قبضہ مستحکم ہوتا جا رہا ہے …… ان کا نعرہ ، نظریہ اور منصوبہ ہی یہ ہے کہ ’ہندو بن جاؤ یا ہندوستان چھوڑدو‘! وہ برما میں مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم کی علی الاعلان تائید کرتے ہیں اور بغیر کسی خوف و خطر کے ہندو غنڈوں کو برمامیں ڈھایا گیاظلم بطوررول ماڈل بتاتے ہیں ۔ ایک دو سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی ہمدرد بن کر رواداری کا راگ بھی الاپ رہی ہیں ،مگرکون نہیں جانتا کہ ’ رواداری‘اور مسلمانوں کے ساتھ’ہمدردی ‘ کی یہ نمائش کرسیٔ اقتدار تک پہنچنے کا محض وسیلہ ہے ، یہ واقعی ’امن پسند ‘ہیں، اتنے کہ کل مسلمانوں پر اگر خدانخواستہ کڑا وقت آگیا تو یہ گھروں کے دروازے تو بند کرلیں گے ، کانوں میں انگلیاں تو یہ ٹھونس لیں گے مگر مسلمانوں کی چیخ وپکار پر کوئی ایک بھی باہر نہیں نکلے گا ۔ ایک مسلمان کی خاطر کسی ہندو غنڈے کے ساتھ یہ بھِڑ جائیں، ناممکن ہے ۔ لہٰذا ظالم بھیڑیوں اور ہندو درندوں سے حفاظت اگر مطلوب ہے تو اس کے لیے کسی اور کو نہیں خود مسلمان ہی کوکھڑا ہونا ہوگا۔

میرے عزیز بھائیو!

طوفانوں کا مقابلہ تو تب ہی ہوسکتا ہے کہ جب آنکھیں کھلی اور خطرات کی حقیقت تسلیم کی جاتی ہو،لیکن سامنے کھڑے خطرات کے وجود اور طوفانوں کی آمد سے ہی اگر انکار کیا جائے توایسے میں سب سے بڑی دشمن پھر اپنی یہ خود فریبی ہی ہوتی ہے۔ ہمیں دُکھ ہے کہ بعض حلقے مطمئن بیٹھ کرہندوستان میں مسلمانوں کے قدموں کے نیچے دہکتے اس آتش فشاں کے وجود سے ہی انکاری ہیں ۔ وہ مسلمانوں کو باور کراتے ہیں کہ ملکی حالات کا یہ سیلاب جس سمت بھی ہمیں لے جائے، بغیر کسی مزاحمت کے اس کی رو میں ہمیں بہنا چاہیے، ان حلقوں کو خدشات ہیں اور نہ ہی اس قسم کے خدشات کو ذہنوں میں جگہ دینے کے یہ حق میں ہیں ، نظر آنے والے خطرات پر سوچنے اور بولنے کو یہ تنگ نظری کہتے ہیں ،طوفان سے پہلے اس کی تیاری کو رد عمل کی سوچ کہتے ہیں ، طفل تسلیاں ہیں جو دی جا رہی ہیں، کہتے ہیں ’ سینکڑوں سال سے ہم مسلم وہندو ساتھ رہے ، مسلمانوں کو یہاں کوئی خطرہ نہیں ‘… …یہ کہہ کریہ بھول جاتے ہیں کہ اگر سینکڑوں سال ہم یہاں ساتھ رہے ہیں تو کمزور بن کر کبھی نہیں رہے،ہندوؤں کے رحم وکرم ، ان کی کسی ’وسعت نظری ‘ اورکسی نام نہاد’ رواداری ‘کے سہارے بھی ہم نہیں رہے ، ہم یہاں فاتح بن کر آئے تھے اور فاتح رہ کر اپنی ایمانی قوت ، کردار اور زورِ بازو کے بل پر رہے ۔ ہماری ایمانی غیرت اور دفاعی قوت ہی تھی کہ جس کے سبب خود بھی یہاں عزت کے ساتھ جیے اور دوسروں کو بھی عدل وامن سے ہم نے نوازا ۔ لیکن انگریز کے آنے اور تقسیم ہند کے بعد ہم وہ نہیں رہے ، حاکم محکوم بن گئے اور طاقت ضعف میں تبدیل ہوئی۔ مگر کیا اب وہ کم سے کم قوت بھی ہمارے پاس موجود ہے کہ جوکسی ظالم ہاتھ کو ہماری طرف بڑھنے سے باز رکھے؟ قطعاً نہیں ، یقیناً اس کم سے کم قوت سے بھی آج ہم محروم ہیں،اور اس کے باوجود کہا جا تا ہے کہ ’ہم اقلیت نہیں ، دوسری بڑی اکثریت ہیں اورہمیں ہمارے حق سے کوئی محروم نہیں کرسکتا ‘……عزیز بھائیو! اس دنیا میں محض حق پر ہونےاور استحقاق کی بنیاد پر ہی کیا حق دارکو حق ملا کرتا ہے؟ ایسا ہوتا تو کیا ہی بات ہوتی ،پھر برما ، مشرقی ترکستان اور چیچنیا سے لےکر فلسطین و شام تک کے مسلمانوں کو کبھی اپنی زمینیں نہ چھوڑنی پڑتیں ،کشمیر ی مسلمانوں کوزمین سے ایسا کبھی نہ لگایا جاتا اور ان کا خون یوں بے دردی کے ساتھ کبھی نہ بہایا جاتا، احمد آباد سے مظفر نگر تک مسلم کُش فسادات نہ ہوئےہوتے ، بابری مسجد آج بھی اپنی شان کے ساتھ یہاں کھڑ ی رہتی اور اس کے میناروں سے اذانیں سنائی دیتیں … …ہندوستان پر مسلمانوں کا حق یقیناً ہے مگر کیا یہ حق منت سماجت کر کے کبھی لیا جاسکتا ہے؟ کیا سنگ دل دشمن کی خوشامد کر کے اس کا دل موم کیا جاسکتا ہے؟ بھیڑیے کے سامنے رحم کی اپیلیں کر کے اس سے جان بخشی کبھی ہوسکتی ہے ؟حق لینے کے لیے اپنے اندر حق چھیننے کی قوت پیدا کرنی ہوتی ہے اور ظلم روکنے کے لیے ظالم کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا ہے ۔ یہاں سسک سسک کر زندگی نہیں ملا کرتی ہے ، بلکہ موت ہی زندگی کی حفاظت کیاکرتی ہے ۔

عزیز بھائیو!

ہمیں یاد رکھنا چاہیے ،کہ مسلمان اور ہندو ، اسلام اور شرک ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ اسلام انسانوں کے رب کی طرف سے دیا ہوا عظیم نور ہے ، جبکہ شرک اندھیرا اورنری جاہلیت ہے ۔ یہ انتہائی قاتل خود فریبی ہوگی اگر ہم نے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر’ ہندو مسلم بھائی بھائی‘ کے سفید جھوٹ اور ’مذہبی رواداری‘ نامی دامِ فریب پر اعتبار کیا ۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ مشرک ہندو کبھی بھی مسلمانوں کےخیر خواہ نہیں ہوسکتے ہیں ۔ اللہ کی کتاب بتاتی ہے کہ یہود کے بعد مسلمانوں کے بدترین دشمن یہی مشرکین ہیں۔ فرماتے ہیں : لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ’’ مؤمنین کے لیے دشمنی میں سب لوگوں سے زیادہ تم یہود کوپاؤگے ‘‘۔ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا……’’ اوروہ جو شرک کرتے ہیں ‘‘۔

اللہ کی کتاب ہم مسلمانوں کو سمجھاتی ہے کہ ان مشرکین کی چکنی چُپڑی باتوں میں کبھی نہیں آنا…… ’بغل میں چھری منہ میں رام رام ‘ان مجرمین کا قدیم طریقہ ہے، اللہ سبحانہ ٗو تعالیٰ کی کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ اگر مسلمان نہتے ہوں ، اپنا دفاع خود ان کے اپنے ہاتھوں میں نہ ہو، تو مشرکین سےبدتر کوئی دشمن نہیں ہوتا ۔ فرماتے ہیں :كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ ’’یہ مشرکین صلح پر کیسے قائم ہوسکتے ہیں؟ اگریہ تم پر قابو پائیں‘‘ ……لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ’’ تو نہ یہ تمہاری قرابت داری و ہمسائیگی کا خیال رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے کیے ہوئے وعدوں کو ایفا کرتے ہیں‘‘ يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ ’’ صرف منہ کی باتوں سے تمہیں راضی کرتے ہیں‘‘ ،(یعنی یہ صرف زبانی جمع خرچ کرتے ہیں،جب یہ مجبور ہو ں ، ان کی کوئی ضرورت ہو تو کہتے ہیں ہندوستان میں کوئی مذہبی تقسیم نہیں ہے،سب دھرم والے یہاں برابر شہری ہیں : يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ مگرحقیقت میں ) وَتَأْبَى قُلُوبُهُمْ جبکہ دل میں ایسا نہیں ہوتا ’’ دل ان کے نہیں مانتے ہیں ‘‘وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ ’’اور اکثر ان میں بدعہد ہیں ، ‘‘ جب انہیں قوت و اختیار ملتاہے، مسلمانوں کو جب نہتااور کمزور پاتے ہیں تو پھر کسی عہد وپیمان اور میثاق و آئین کا خیال نہیں رکھتے ہیں ۔

عزیز بھائیو! اہم ترین نکتہ جس کا نظروں میں رہنا بہت ضروری ہے وہ یہ کہ ، ہم تحریک اٹھائیں نہ اٹھائیں، باطل ہمارے خلاف تحریک ضرور اٹھاتا ہے،وہ کبھی نہیں رکتا ،وہ ہماری اپنے دین سے وابستگی برداشت کرے ،یہ ناممکن ہے ۔ شعیب علیہ السلام کا اپنی قوم کے ساتھ مکالمہ پڑھیے، یہ مکالمہ آج کے مشرکین کی فطرت سمجھنے کے لیے بھی کافی ہے ۔ شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کومخاطب کیا [1]: وَإِنْ كَانَ طَائِفَةٌ مِنْكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ’’اگر تم میں سے ایک گروہ اُس دین پر ایمان لایا ہے جو میں لایاہوں ‘‘وَطَائِفَةٌ لَمْ يُؤْمِنُوا ’’اور دوسرا گروہ ، ایمان نہیں لایا تو ‘ ‘… …فَاصْبِرُوا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا ’’ صبر سے کام لو، یہاں تک کہ اللہ ہمارے بیچ فیصلہ فرمائے، ‘‘ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ ’’اور اللہ بہترین فیصلہ کرنے والے ہیں‘‘……علماءِکرام نے یہاں وضاحت کی ہے کہ شعیب علیہ السلام نے ان کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھایا تھا ، دھمکی نہیں دی تھی ، آپ نےالٹا جنگ و لڑائی سے منع کیا ، کہا کو ئی کسی کے خلاف کچھ نہ کرے ، اللہ کیا فیصلہ فرماتا ہے؟ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں؟ بس اس کا انتظار کریں۔ایسے میں جو قوت و اختیار والا طبقہ تھا ، اس نے شعیب علیہ السلام کو کہا ، قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ ’’قوم کے متکبر سردار بولے‘‘ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا ’’اے شعیب تمہیں اور جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، تم سب کو ہم یہاں سے نکال باہر کردیں گے ‘‘ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ’’ (تمہارے پاس بس ایک ہی راستہ ہے )’’یا تم واپس ہماری ملت میں پلٹ جاؤ ( واپس نعوذ باللہ مشرک بن جاؤ!)‘‘…… یہ دھمکی ہے جو شرک وکفر کے علمبردار ہمیشہ اہل ایمان کو دیتے ہیں، ’تبادلۂ خیال ‘اور’بقائے باہمی ‘ کا ڈھنڈوراپیٹنے والے آج بھی جب مسلمانوں کو کمزور پاتے ہیں ، تو لہجے بدل جاتے ہیں اور’رواداری ‘ اور ’قانون کی حکمرانی ‘ جیسے دعوؤں کانقاب جلد ہی چہروں سے اترجاتاہے ۔

بتائیے میرے بھائیو! برما کے مسلمانوں نے کس کو تکلیف دی تھی ؟ انہوں نے کس کے خلاف ہتھیار اٹھایا تھا؟ کب انہوں نے انتہا پسندی اور ’دہشت گردی ‘ کی دعوت دی تھی؟ انہوں نے تو لاٹھی تک بھی نہیں اٹھائی تھی ۔ وہ تو مکمل طور پر نہتے ، مسکین اور ضعیف تھے ، وہ انسانیت اور ہم وطن ہونے کے واسطے دےکر امن کی بھیک اور جینے کا حق مانگتےتھے ، کیا انہیں معاف کیا گیا ؟ان کی جان بخشی ہوئی؟ نہیں ، ان کا قتل عام ہوا ، لاکھوں کی تعداد میں انہیں سمندر میں دھکیلا گیا۔ درندوں میں بھی ترس اور رحم نامی صفات موجود ہوں گی مگر برما کی زمین پر مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس قدر بے رحمی کے ساتھ ہوا کہ جنگل کے درندے بھی اس پر دردمند ہوں گے، اور یہ سب مظالم آج کے میڈیا والے دور میں ہوئے، سب کچھ عالمی طاقتوں کی نظروں میں ہوا۔چوری چھپے ، یا خاموشی کے ساتھ نہیں ، ڈنکے کی چوٹ پر……کیمروں کے سامنے ……لاٹھیاں ،خنجر اور آگ وپٹرول لےکر مشرک بدھ مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ فوج و پولیس ان غنڈوں کی محافظ اور معاون تھی …… پھر بے دردی اور نت نئے طریقوں سے ……اذیتیں دے دے کر انہیں مارا گیا …… بچوں کو والدین کے سامنے آگ میں ڈالا گیا، زندہ انسانوں تک کے ہاتھ ، پاؤں اور کان کاٹے گئے ، بیچ چوراہوں میں مسلمان خواتین کے ساتھ زیادتیاں کی گئیں اور پھر پٹرول چھڑک کر انہیں آگ لگادی گئی… …ایک واقعہ نہیں ، بے شمار واقعات اور لاتعداد ویڈیوز ہیں ، بستیوں کی بستیاں چند دنوں کے اندر راکھ میں تبدیل ہوگئیں،اور لاکھوں بہنیں ہیں جو آج بھی بے گھر و دربدر، کیمپوں میں پناہ لیے اپنے اوپرگزرےان مظالم کی داستان سنا رہی ہیں ۔

عزیز بھائیو!

اسلام ’لا الٰہ ‘ کا اعلان کرکے دیگر تمام معبودوں اور تمام ادیان کا انکار کرتا ہے جبکہ ’الّااللہ اور محمد رسول اللہ ‘ کہہ کر صرف اسلام ہی کے حق پر ہونے اور زمین میں اس کے غالب رہنے کے استحقاق کااقرار واعلان کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام تمام انسانوں کو آزاد کرنے اور انہیں اللہ کی بندگی میں لانے کا پیغام ہے ۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے مسلمان کی ذمہ داری ہی یہ لگائی ہے کہ وہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر خالق السماوات والارض ،اللہ کی بندگی میں داخل کردے اور تمام ادیان کے جور وستم سے انہیں نجات دلا کر اسلام ہی کی رحمت میں انہیں داخل کردے۔ یہ مسلمان کی ذمہ داری تھی ،یہ اس کا فرض تھا کہ وہ دنیا پر ظلم و کفر کے خلاف تحریک بپا کرے، انسانیت اور اس کے رب کے بیچ رکاوٹوں کو ڈھا دےاور زمین پر زمین کے رب اللہ کے دین کو حاکم وغالب کر دے۔ اگر تو مسلمان اس فرض پر لبیک کہے، اس کی ادائیگی میں اپنی جان اورسب مال ومتاع کھپادے، تو اس کی زندگی کا مقصد پورا ہوجاتاہے، اس کو دنیا میں بھی اللہ عزت دیتا ہے اور آخرت میں بھی ہمیشہ کی کامیابی سے اسے نوازتا ہے، اللہ سبحانہ وتعالی ٰفرماتاہےاِنْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا ’’نکلو ہلکے ہو یا بوجھل ‘‘ وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ’’اور اللہ کے راستے میں جان و مال سے جہاد کرو‘‘ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ’’یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم سمجھتے ہو‘‘۔ لیکن اگر مسلمان کے ارد گرد ظلم و کفر کا تو بازار گرم ہو ،زندگی کےتمام تر رستوں پرتو باطل کا قبضہ او ر حکمرانی ہو اور وہ اس سب کے باوجود بھی چین وآرم سے بیٹھا، اللہ کی پکار پر لبیک نہیں کہتا ہو ، اس کے باوجود بھی اللہ کے نور کو لےکر اندھیروں کو بھگانے نہیں نکلتاہو … …بلکہ دنیا کی چار دن کی زندگی کا وہ اسیر بن جاتاہو،عافیت ، راحت اور دنیا کی نام نہاد ترقی و خوشحالی کو وہ عزیز تر رکھتاہو، تو اللہ رب العزت اسے خبردار کرتا ہے ، کہ إِلَّا تَنْفِرُوا’’اگر تم (جہاد کے لیے )نہیں نکلتے ‘‘……يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا’’تمہیں اللہ دردناک عذاب دے دے گا‘‘…… وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ’’اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کولے آئے گا‘‘وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکوگے ‘‘ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘……عزیز بھائیو!آج ہماری جو حالتِ زار ہے ، یہ اپنا یہ فرض پورا نہ کرنے کا نتیجہ ہے ، جو دین غالب ہونے آیا ہے ، وہی آج برصغیر میں مغلوب ہے، اور جو دوسروں کو آزادی دینے آیا تھا ، آج خود اس کےماننے والے غلام ہیں ۔ اگر یہ دین غالب ہوتا ، شریعت مطہرہ یہاں حاکم ہوتی،برصغیر کی اس سرزمین پر اسلام کا قلعہ اگر کہیں بھی واقعی موجود ہوتا، تو ہندوستان کیا برصغیر بھر میں مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی ، مسلمان تو مسلمان کسی غیر مسلم پر بھی ظلم نہ ہورہا ہوتا، یہاں کی زمین بھی خوش ہوتی اور آسمان بھی رحیم ہوتا، اسلام کے فیوض وبرکات کو سب سمیٹ رہے ہوتے اور یہاں کے تمام انصاف پسند انسان اسلام ہی کے آغوش میں اپنی نجات پاکر اس کی طرف لپک رہے ہوتے ۔مگر افسوس کہ یہ فرض ادا نہیں ہوا،۴۷ء میں ہندوستان تقسیم ہوا ، ایک ملک اسلام کے نام پر بھی بنا ، مگر وہاں سب سے بڑا دھوکہ اسلام ہی کے ساتھ ہوا ۔ آج وہاں اسلام اور اسلام چاہنے والوں پر بدترین مظالم ہو رہے ہیں ، وہاں کی فوج و حکمران اسلام دشمن جنگ کا ہراول دستہ ہیں … پھر یہاں جنہوں نے کفر و الحاد کے سامنے بند باندھ کر غلبۂ دین کی تحریک چلانی تھی ، افسوس کہ انہوں نے جمہوریت کی قربان گاہ پر اپنی اسلامیت ہی قربان کردی ۔نتیجہ یہ ہواکہ پاکستان میں اصحابِ اقتدار کا مقصد اسلام کی خدمت نہیں ، بلکہ اپنے مفادات کاحصول رہا ، یوں غلبہ ٔاسلام اور مظلوم انسانوں کی نصرت کے وہ سب خواب دھرے کے دھرے رہ گئے ۔آج پاکستان کی صورت ِ حال پر شیخ احسن عزیز شہید رحمہ اللہ کے یہ اشعار بہت صادق آتےہیں جو انہوں نے ہندوستان کے مسلمان بھائیوں کو مخاطب کرکے لکھے تھے :

ہم سے بچھڑے جو … تم

’’اقلیت ‘‘ رہ گئے!

یوں اکیلے ہی پھر

اتنے غم سہہ گئے!

اور ہم !!!

خواب لےکر کےآئے تھے

کل جو یہاں !

سَیل ِ اِلحاد و عصیاں کے طوفان میں

کب کے……وہ بہہ گئے!

بے سُدھ و دَم بخود

ہم جہاں سے چلے تھے

وہیں رہ گئے!

تقسیم ہند کے وقت جہاں سے ہم چلے وہیں رہ گئے ، وہیں نہ رہتے تو آج پورے برصغیر کی تقدیر مختلف ہوتی ۔دوسری طرف بھارت میں بھی غلبہ ٔ دین اور دعوتِ دین کی تحریک، افسوس ہے کہ چند قدم بھی نہیں چل سکی ، حالانکہ یہی وہ تحریک تھی جو یہاں کے مسلمانوں کو حفاظت و تقویت دے سکتی تھی ۔یہی وہ تحریک تھی جو اپنے تو اپنے پرایوں کی بھی تقدیر بدل سکتی تھی ، یقیناً مشکلات یہاں کم نہیں تھیں اور جس نے ان حالات میں دین کی جو بھی خدمت کی ہے، اللہ انہیں اجر عظیم دے، لیکن مجموعی طور پر یہاں بھی وہ کچھ نہیں ہوا، جو ہونا چاہیے تھا، ضروری تھا کہ مسلمانوں کومثالی مسلمان بننے اور اپنے پاؤں پرکھڑا ہونے کی دعوت دی جاتی ، اپنی حفاظت و دفاع کے لیے انہیں تیار کیا جاتا، ان میں وطن پرستی کی جگہ’ خدا پرستی‘ ، لادینیت کی جگہ للہیت اور ’اتباع شریعت ‘ کی ایسی روح پھونک دی جاتی، کہ وہ دعوت و کردار کا ہتھیار لےکر غیروں کے سامنے بھی اسلام کی عظمت کاعملی نمونہ بن جاتے۔لیکن افسوس ہے کہ ہم نے یہاں ’ جمہوریت‘ اور ’سیکولر ازم ‘ کے نعروں کا تو ساتھ دیا مگر اسلام اور ہماری حالت زار بتارہی ہے کہ رخ بہ منزل سفر میں چند قدم بھی ہم آگے نہیں اٹھا سکیں۔

ہندوستان کے میرے عزیز مسلمان بھائیو!

ہمیں یقین ہے کہ ارض ِہند بلکہ پورے برصغیر میں اسلام غالب ہوکر رہے گا۔ شاہ عبدالعزیزدہلوی ، سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید رحمہم اللہ نے جو خواب آنکھوں میں سجائے تھے ، اُن کی تعبیر کا وقت ابھی زیادہ دور نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی مبارک احادیث ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ یہاں کفر و ظلم کا یہ راج ہمیشہ نہیں رہےگا ، وہ دن ضرور آئے گا جب شرک و ظلم کے یہ اندھیرے سب چھٹ جائیں گے ۔ پس اے محمدبن قاسم اور محمود غزنوی کی روحانی اولاد! پریشان نہ ہو ، دل برداشتہ اور مایوس نہ ہوں……یہ اٹل حقیقت ہے کہ فتح ونصرت اللہ اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ’’اور مدد صرف اللہ کی طرف سے ہے ‘‘ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ’’بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے‘‘، آزمائش ہماری ہے کہ ہم ان اندھیروں کے ساتھ مصالحت کرتے ہیں یا اسلام کا نو ر لےکر ان کے خلاف صف آرا ہوجاتے ہیں۔اگر ہم نے عزم وہمت کے ساتھ نصرتِ دین کا شرعی راستہ چنا اور نصرتِ دین ہی کے مقصد کواول و اہم رکھ کر میدان ِ عمل میں اترے ، تو یقین جانیے ،فتح ہمارے قدم چھومے گی۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے : وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ’’ اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مددکرے ‘‘إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ’’ بیشک اللہ زبردست غالب ہے ‘‘ پس جذبے ٹھنڈے نہ ہو ، عزم قوی رکھیے، عمل کرنے اور آگے بڑھنے کا وقت ہے، ہم مؤمن ہوئے، صبر و استقامت کا دامن ہم سے نہیں چھوٹا…… توہم بہر حال کامیاب ہیں ۔ اقلیت و اکثریت کے بکھیڑے سب بیکار ہوجائیں گے اور باطل کا یہ شوروغوغا سارا ہوا میں تحلیل ہوجائےگا۔ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ( ایسا بہت ہوا ہے کہ چھوٹی جماعت اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر غالب آئی ہے)وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ، اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ اللہ ہمیں اس آیت کا مصداق بنائے اور اہل ہند کو جس مبارک گروہ نے اندھیروں سے نجات دلانا ہے ، اللہ ہمیں اس میں شامل فرمائے،آمین۔

عزیز بھائیو اور محترم بزرگو!

وہ کیا امور ہیں کہ جو اسلامیان ہند کو خصوصی طور پر اپنے سامنے رکھنے چاہیے اور کیا عملی اقدامات ہیں کہ جن کو اٹھا کرہم بے رحم طوفانوں سے اپنی حفاظت کرسکتے ہیں؟ اللہ ہماری رہنمائی فرمائے اور توفیق و مدد سے نوازے ، اس سے متعلق نکات کی صورت میں چند گزارشات ہیں جو آپ کی خدمت میں رکھ رہے ہیں ۔

  1. پہلا نکتہ، اللہ سبحانہ ٗ و تعالی کی طرف بحیثیت مجموعی رجوع ہو ، اللہ ہمارا خالق و مالک ہے ، وہی ہمارا معبود اور حاکم ہے، لہٰذا اللہ کی عظمت کے مقابل کسی مخلوق کی عظمت ہم قبول نہ کریں۔اُس رب عظیم کے مقابل کسی عدالت ،کسی ریاست، عوام یا خواص کے کسی حکم وفیصلے کی تقدیس ہم نہ کریں۔وطنیت اور جمہوریت ،یہ سب عصر حاضر کے تراشیدہ بت ہیں ، ان سب کا انکار جبکہ صرف للہیت اور اسلامیت کا ہم اقرار کریں ۔

یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے
غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبویؐ ہے

بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے تُو مصطفوی ہے

صرف اللہ کے سامنے ہم جھکیں ،اللہ کے احکامات کی پیروی کریں اور اللہ کےاحکامات کےمقابل کسی کے اصول واحکامات کو ہم خاطر میں نہ لائیں ۔ یہی ’لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘ کا تقاضہ ہے ۔

  1. دوسرا، ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘کی یہ دعوت ہم عام کریں ،اس کلمے کا معنی و مفہوم ، فرائض اور تقاضے خود بھی ہم سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں ،یہ کلمہ تمام معبودوں اور بادشاہوں سے انکار جبکہ صرف ایک اللہ کی عبادت اور اطاعت کا اعلان ہے ۔ یہ دعوت ہم اپنوں کے سامنے بھی رکھیں اور پرایوں کے سامنے بھی ۔ سب کو ہم سمجھائیں کہ ہماری دنیا و آخرت کی تمام تر بھلائیاں بس اس کلمہ کو ماننے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ہیں ۔ہمارے اخلاق و کردار ، معاشرت و معاملات ، دعوت و خدمت خلق ، ،دوستی ودشمنی کا ڈھنگ سب شریعت کے مطابق اور کلمۂ توحید کی عملی تصدیق کرنے والے ہوں ۔ اسلام و شریعت پر عمل اور اس کی دعوت کے سبب اگر مشاکل و محرومی کا سامنا ہو ، تو سامنا کیا جائےاور اگر اس کی خاطر سب کچھ کی قربانی بھی دینی پڑےاس سے دریغ نہ ہو۔ہماری دعوت وتحریک اور فکرو سعی شرعی اصولوں کے گرد ہو ، نہ کہ قومی و شخصی مفادات کے گرد ۔ہمیں یقین ہونا چاہیےکہ اس طرز ِفکر و عمل کا فائدہ اسلام کو بھی ہوگا اوربطورِ قو م ہم مسلمانوں کو بھی ، لیکن قومی فوائد کے نام پراگر احکام ِ الہی کی خلاف ورزی ہم کریں ، تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ ہماری قوم کے لیے بھی کبھی کوئی برگ وبار نہیں لائے گی ۔

  2. تیسرا ، ہندوستان میں جو ہمیں کچھ نہ کہے،یعنی ہمارے اوپرجوہاتھ نہ اٹھائے، ہم بھی اسے کچھ نہ کہیں اور ہم بھی اس کے لیے مکمل طور پر ا من کے پیغامبر ہوں، لیکن اگر کوئی ہمیں ، ہمارے بچوں ، ماؤں اور بہنوں کو مارنے آ ئے، کیا اس کے سامنے بھی ہم پرامن ہوں؟ نہیں، قطعاًنہیں … تمام علماء وفقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ عدو ِصائل، حملہ ور دشمن کو روکنا اوراپنے دین و دنیا کو اس کے فساد سے محفوظ کرنا نماز کے بعد اہم ترین فرض ہے ۔ ہندو کی فطرت ہے کہ یہ کمزور کو مارتا اور پسے ہوئے کو مزید پیستا ہے جبکہ طاقت ور کو دیوتا بناکر اس کی پوجا کرتا ہے۔برما میں قتل عام صرف وہاں ہی ہوا جہاں مزاحمت نہیں ہوئی ، مگر جہاں مزاحمت ہوئی ،محض لاٹھی اور پتھروں سے بھی جہاں دفاع ہوا ، وہاں دشمن بھاگنے پر مجبور ہوا۔پھرعزیز بھائیو! اعدادو تیاری چونکہ خود ایک مستقل فرض ہے ۔ اس لیے علماء کرام اور داعیانِ دین کی خدمت میں ہم درخواست کرتے ہیں کہ اس کی بھرپور ترغیب دیں اور اس کے لیے باقاعدہ ابھی سے صف بندی کریں ۔ دلوں میں شہادت کا جذبہ پیداکیا جائے، ظاہر ہے شہادت سے بڑھ کرکوئی سعادت نہیں اور اپنے دین وایمان ، اہل و عیال اور مسلمانوں کے دفاع میں جان دینا افضل شہادت ہے ۔

  3. چوتھا ، دنیا بھر میں الحمدللہ جگہ جگہ میادین ِ جہاد گرم ہیں ،یہاں غلبۂ دین اور مظلوموں کی نصرت کے لیے مجاہدینِ اسلام برسر پیکار ہیں، دفاعِ امت کے اس ہر اول دستے ، ان ابطالِ اسلام سے آپ لاتعلق مت رہیے ۔ضروری ہے کہ ان میدانوں میں آپ بھی شریک ہوں اور تحریک ِ جہاد کی نصرت و تائید میں آپ کا بھی بھرپور حصہ ہو۔آپ کا قریب ترین میدان ، جہادِ کشمیر ہے ،اس جہاد میں آپ جان ومال سے شریک ہوں۔ تحریکِ جہاد میں آپ کی یہ شمولیت اور کسی بھی سطح پر آپ کی شرکت ہندوستان بھر میں اسلام اور مسلمانوں کی تقویت کا ان شاءاللہ سبب بنے گا ۔

  4. پانچواں اور آخری نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ نکات پر زیادہ سے زیادہ اتفاق و اتحاد پیدا کریں اور ان تمام امور کو مکمل نظم وضبط کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کیجیے۔

اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانان ِ ہند کو وہ عزت ، قوت اور شوکت سے نوازے… یا اللہ ،ہندوستان میں ہمارے بھائیوں کے دین وآبرو ، جان و مال اور اہل و عیال کی حفاظت کیجیے۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم برصغیر میں غلبۂ اسلام کی تحریک میں اپنا سب کچھ لگائیں۔اللہ سبحانہٗ وتعالی ٰ ہمیں وہ دن دکھائے جب پاکستان و ہندوستان اور پورے برصغیر میں اللہ کی رحمانی شریعت کا راج ہو اور ظلم وکفر کے جھنڈے سب سرنگوں ہو، آمین یا رب العالمین ۔

وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین ۔

[1] وَإِنْ كَانَ طَائِفَةٌ مِنْكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَمْ يُؤْمِنُوا فَاصْبِرُوا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ ؀قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ؀(سورة الأعراف 87-88)

ڈاؤن لوڈ | Download

شاهد أيضاً

شہادت : رتبہ اولی محبت کے قرینوں میں – مجاہدین کی ایک محفل میں فضیلتِ شہادت و شہداء کے متعلق گفتگو – حافظ صہیب غوری حفظہ اللہ

شہادت : رتبہ اولی محبت کے قرینوں میں – مجاہدین کی ایک محفل میں فضیلتِ …

بھائی چارگی، اس کی اہمیت اور پیدا کرنے کے اسباب – از مولانا محمد مثنیٰ حسان

بھائی چارگی، اس کی اہمیت اور پیدا کرنے کے اسباب از مولانا محمد مثنیٰ حسان …

بغدادی کا قتل اور فتنۂ داعش کے تناظر میں، ہمارے کرنے کے کام : بقلم: استاد اسامہ محمود

بغدادی کا قتل اور فتنۂ داعش کے تناظر میں، ہمارے کرنے کے کام : بقلم: …