آئیے… جنتوں کے خریدار بنیں! عید الفطر ۱۴۴۱ھ کے موقع پربیان – از استاد اسامہ محمود حظفہ الله

آئیے… جنتوں کے خریدار بنیں! عید الفطر ۱۴۴۱ھ کے موقع پربیان – از استاد اسامہ محمود حظفہ الله

ڈاؤن لوڈ | Download

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم!

برصغیر اور پوری امت مسلمہ کے میرے عزیز مسلمان بھائیواور بہنو!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

عید الفطر کے اس مسرت بھرے موقع پر مجاہدین امت کی طرف سے ہم آپ کو مبارک باد کہتے ہیں ، تقبل اللہ منا و منکم! اللہ آپ سے اور ہم سب سے راضی ہو ، ہمارے اور آپ کے اعمالِ صالحہ قبول فرمائے اور عیدالفطر کا یہ مبارک دن پوری امت مسلمہ کے لیے حقیقی عید یعنی نصرتوں اور فرحتوں کی تمہید ثابت کرے،آمین ۔

محترم بھائیو! اس مبارک مو قع پر آپ کی خدمت میں اللہ کی کتاب سے چندآیات بطورِہدیہ پیش کرناچاہتاہوں کہ جنہیں ہم اور آپ اپنے دلوں میں اگر بسائیں اور ان کی روشنی میں میدانِ عمل میں اخلاص کےساتھ اگرقدم رکھیں تو اللہ کے اذن سے ہمارا ہر دن خوشی کا دن اور ہر لمحہ مبارک بن جائے گا ۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ؀ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ؀يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ؀ وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ؀﴾ (سورۃ الصف)

عزیز بھائیو!اللہ رب العزت کا فرمان مبارک ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ’’اے ایمان والو‘‘هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ’’کیا میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سےنجات دلائے؟‘‘۔

تجارت، نفع یا نقصان کا نام ہے؛اور جو شخص بھی تجارت کرتا ہے وہ نفع تو چاہتا ہی ہے مگر نقصان کا خوف اور دیوالیہ ہونے کا ڈربھی کبھی اس کا دامن نہیں چھوڑتا۔ اللہ رب العزت نے بھی نفع کا ذکر کیا ، مگر اس میں نقصان کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ تجارت اگر نہیں کرو گے تو اس کے نہ کرنے کے سبب یہ نقصان ہوگا؛گویا تجارت اختیاری نہیں ، لازم اور فرض ہے۔ اس فرض کو ادا نہ کرنے کا نقصان کیا ہے؟ عَذَابٌ أَلِيم ، دردناک عذاب؛ اور یہ ایسا گھاٹا ہے کہ جس کے مقابل ساری دنیا کا عظیم ترین گھاٹابھی کوئی گھاٹا نہیں! تجارت کیا ہے؟ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ’’اللہ اور اللہ کے رسول پر ایمان لاؤ‘‘ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ’’اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو اپنے اموال اور اپنی جانوں سے‘‘ …… اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ، ان کے وعدوں پر یقین ، ان کے بتائے گئے نفع و نقصان کے پیمانوں کو دل و ذہن سے قبول کرنا اورساتھ ہی ساتھ دشمنان دین کے خلاف جہاد میں اپنی جان و مال کھپانا اور لٹانا ، یہ وہ وسیلہ اور واحد ذریعہ ہے کہ جو ہمیں بدترین خسران اور بدترین عذاب سے بچاسکتا ہے …… آگے اللہ فرماتے ہیں ، ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ ’’یہی تمہارے لیے بہتر ہے‘‘، إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ’’اگر تم سمجھو‘‘؛ سمجھ داری اور ہوشیاری کا ثبوت گویا یہ ہے کہ اللہ کی محبت و اطاعت میں فنا کرنے کے لیے اپنا آپ پیش کردو۔

آگے فرماتے ہیں :يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ،’’تمہارے گناہ معاف کردیں گے‘‘ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ’’اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کردیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں‘‘ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ’’اورہمیشہ ہمیشہ والی جنتوں میں ایسے مسکن تمہیں عطا کر دیں گے جو انتہائی پاکیزہ ہوں گے‘‘ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ’’یہی بڑی کامیابی ہے‘‘۔ کامیابی کی تلاش میں سرگرداں پھرنے والو!کامیابی کو سمجھو کہ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامرانی ہے!جس کامیابی کو خالق السماوات والارض بڑی کامیابی کہے ، اس سے بڑھ کربھی کیا کوئی فوز و فلاح ہوسکتی ہے؟

ہرانسان ناکامی و ونامرادی سے بچنا چاہتاہے ؟ تم بھی چاہتے ہو کہ عزت و راحت اور فرحت و مسرت سے بھرپور زندگی تمہیں مل جائے ، تو دھوکے میں مت پڑو، اس کی جگہ یہ دنیا نہیں، یہ تو دارالغرور ہے ، یہاں جو نظر آتا ہے وہ فریب ہے ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ’’ہر انسان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ‘‘، سب نے مرنا ہے، وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ’’اور قیامت کے دن تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ لوٹا دیا جائے گا‘‘ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ ’’پس جو آگ سے بچ گیا اور جنت میں داخل ہوا‘‘ فَقَدْ فَازَ ’’تو بس وہی کامیاب ہوا‘‘، یہی کامیابی ہے جس کو حاصل کرنا چاہیے، باقی دنیا تو وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ’’اور دنیا کی یہ زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں‘‘۔ اسی طرح اللہ فرماتا ہے: إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ’’بےشک اللہ کا وعدہ حق ہے‘‘، فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ’’پس تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے‘‘ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ ’’اور نہ وہ بڑا دھوکہ باز (یعنی شیطان)تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں ڈالے ‘‘اس لیے کہ یہ دنیا عیش وعشرت کی جگہ نہیں ، یہ دارالامتحان ہے ، یہاں جو تمہیں ملا ، اسے مقصود مت سمجھنا، اس کی ایک ایک نعمت کا حساب لیا جائے گا؛بے حساب خوشیوں اوردائمی نعمتوں کی جگہ آخرت کا گھر ہے! پس اسی کے لیے کمر کس لو اور رخت ِ سفر باندھ لو۔ ایک اور جگہ اللہ سبحانہ ٗ و تعالیٰ موت کے بعد کی کامیابی اور دائمی جنتوں کا ذکر کرکے فرماتے ہیں ، لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ ’’عمل کرنے والوں کو ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنا چاہیے!‘‘ اے دنیا کے پیچھے بھاگنے والو ! کن ذلتوں میں گر رہےہو ، اصل رفعتوں کو سمجھو اور ان کی طرف لپکو! اولاً مذکور آیت میں پھر آگے اللہ سبحانہ ٗ و تعالیٰ فرماتے ہیں: وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا ’’اور وہ اگلی چیز بھی دیں گے جو تم پسندکرتے ہو ‘‘،وہ کیا ہے؟ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ’’اللہ کی طرف سے مدداور (عن )قریب فتح ‘‘ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ’’اور مؤمنین کو خوش خبری دےدو‘‘۔

برصغیر کے میرے عزیز بھائیو!

آج بطورِ امت ہمار ی حالت کیا ہے؟ آئیےتھوڑی دیر کے لیےدل پر ہاتھ رکھ کرذرا جائزہ لیں……ہندوستان کو دیکھیے ، وہ زمین جہاں صدیوں اسلام اور مسلمانوں نے حکمرانی کی ہے ، آج یہاں بتوں اور بندروں کی پوجا کرنے والےنجس ہندوؤں نے ہمارے پچیس کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ؟ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟ یہاں اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہماری ماؤں اوربہنوں کی عزتیں کیوں محفوظ نہیں ہوئیں؟ یہ پاکستان و بنگلہ دیش میں ہرطرف بے چینی و محرومی، مایوسی اور بے سکونی کیوں ہے ؟یہاں شریعت کے یہ باغی اور امت مسلمہ کے یہ خائن، انتہائی ذلیل طبقات ہمارے سروں پر کیوں مسلط ہیں ؟ان طواغیت کے ہاتھوں اپنے دین اور دنیا کی اس تباہی کا تماشہ کیسے دیکھا جا رہا ہے؟ اُدھر فلسطین میں ہمارا بہتالہو کیوں رکنے کا نام نہیں لے رہا؟ کیوں آج ہم یہودیوں کے رحم وکرم پر …… مجبور و مقہور قیدی سے بھی بدتر حالت میں ہیں؟ اب تو حال یہ ہوا کہ مسجد اقصیٰ میں باجماعت نماز تک ادا کرنے کا اختیار بھی ہاتھ سے نکل گیا ۔ حرمین شریفین کی سرزمین ، جزیرۂ عرب، کہ جس کو کفار و کفر سے پاک کرنے کی نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی ، عرصۂ دراز سے خبیث امریکیوں کا مسکن تو بن ہی چکی تھی ، مگر آج اس پر قابض ان کے غلام گیدڑ اتنے شیر ہوگئے کہ ارض حرمین میں بھی برسرعام بے دینی اور فحاشی کو رواج دیا جا رہا ہے!! مشرقی ترکستان ،برما، شام، شیشان ، کس کس زخم کا رونا رویا جائے ،کس کس ظلم اور کس کس محرومی کو یاد کیا جائے؟

عزیزبھائیو! یہ ساری ذلت و رسوائی کیوں ہے؟ کیوں یہ ہر سمت سے ہمارے سروں پر کفر و ظلم کے ہتھوڑے برسا ئے جا رہے ہیں؟سبب کیا ہے؟اس سب کا سبب ایک ہے، ’’حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ‘‘ دنیا کی محبت، اس کی پرستش اور اس کو اپنے قلب و ذہن اور جسم و روح پر سوار کرنا ہی اس ذلت و رسوائی کا واحد باعث ہے، اس لیے کہ دنیا کی محبت ہی ہر برائی اور ہر بے حمیتی کی جڑ ہے ۔ وہ دنیا کہ جس کی حیثیت اللہ کے سامنے مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، جو دھوکہ ، جھوٹ اور حقیر ہے ، اس دنیا کے اسیر جب ہم ہوئے ، تو پھر ذلت ورسوائی کے یہ دن بھی دیکھنے پڑے ۔ اللہ رب العزت کا فرمان مبارک ہے؛وَفَرِحُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا ’’یہ دنیا کی زندگی پر فریفتہ ہیں ، جبکہ‘‘ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ ’’دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں حقیر ہے‘‘……ایک اور جگہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ’’دنیا کی زندگی بس بےکار کھیل کود ہے ‘‘ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ’’اوربےشک آخرت کاگھرہی ہمیشہ کی زندگی ہے ‘‘ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ’’کا ش کہ یہ سمجھتے‘‘۔ گویا حقیقی زندگی وہی آخرت کی زندگی ہے اور اس کے لیے بس وہی اپنے آپ کو کھپاتے ہیں جنہوں نے اپنی باگ ڈور خواہشاتِ نفس کے ہاتھ میں نہ تھمائی ہو ، جو سمجھ دار ہوں اور عقل سلیم سے کام لیتےہوں ۔

عزیز بھائیو!

سچ یہ ہے کہ جو بھی اس حقیر دنیا ، اس کے مال و دولت اور اس کی عزت و شہرت کو ہی اپنی زندگی کا مقصد و محور بناتا ہو ، جوبھی اس حقیر پیمانے سے اپنی اور دوسروں کی کامیابی و ناکامی ناپتا و تولتا ہو ، وہ چاہے اپنے آپ کو بڑا سمجھ دار ہی کیوں نہ سمجھتاہو، اس سے بڑھ کر بدنصیب ،اس سے بڑھ کر کج فہم اور اس سے بڑھ کر بے عقل کوئی نہیں ۔عقل مند ، ہوشیار اور صحیح فہم والا صرف وہی ہوسکتا ہے جس کی آنکھوں کو اس دارِ غرور نے اندھا نہیں کیا ہو اور جو اس غلیظ اور حقیر دنیا کو اس کے اصل مقام پر رکھتا ہو۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ،’’دنیا اُس کا گھر ہے جس کا حقیقت میں کوئی گھر نہیں ‘‘،یعنی پرائے کے گھر کو اپناگھر کہتاہے، اس گھر کا اصل مالک جب چاہتا ہے، بغیر کسی نوٹس کے اسے نکال باہر کرتا ہے۔آج دیکھیے! نظر تک نہ آنے والے ایک ننھے سے وائرس سے صرف چند ہفتوں میں تین لاکھ لوگ لقمۂ اجل بنے ، اربوں لوگ خوف میں مبتلا ہیں ،زندگی کا پہیہ جیسے جام ہوگیا ، ٹیکنالوجی اور علوم و فنون میں ترقی کی معراج پر کھڑے، خدائی کے یہ دعویٰ دار سب عاجز ہوگئے ہیں ، دنیا کے اصل مالک، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے اپنی طاقت و اختیار کا یہ ایک چھوٹا سا اظہار ہے ،ابن مسعود ؓآگے فرماتے ہیں ، وَمَالُ مَنْ لَا مَالَ لَهُ،’فرماتے ہیں ’اور یہ دنیا اس کا مال ہے جس کا اصل میں کوئی مال نہیں ‘‘وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ ، ’’اور اس دنیا کے لیے وہی جمع کرتا ہے جس میں عقل نہ ہو ‘‘…… کیوں؟ اس لیے کہ اس کے سامنے ہی زمین اس جیسے انسانوں سے اپنا پیٹ بھرتی جار ہی ہے، جس کو اس قبرستان میں اتارا گیا ، وہ واپس کبھی نہیں آسکا، سب نے اپنے محل ، بنگلے اور جھونپڑیوں سے نکل کر اس ایک زمین میں دبنا ہے ،آج نہیں ، تو کل ، کسی کو بھی اس میں شک نہیں ۔پھر قبرمیں کسی کے ساتھ اس کا کچھ بھی نہیں جائے گا،وہاں پھر مال و دولت ، شہرت و عزت ، قوت و اختیار ،اسٹیٹس ا ور کیرئیر کچھ کام نہیں آئے گا، اورجو کام آئے گا ، افسوس کہ اس کی فکر نہیں اور جو الٹا بوجھ ہوگا ، جس کے بارے میں الٹا بازپرس ہوگی ، جو اللہ کی ناراضگی اور گرفت کا باعث بنے گا ، اس کی فکر میں یہ انسان ہلاک ہو رہا ہے،اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ عقل مند ہے؟ اس کے برعکس دوسری طرف جنہوں نے دنیا کی بے وقعتی سمجھی تھی ، اللہ کی پکار پر جنہوں نے لبیک کہا تھااور جنہوں اللہ کے راستے سے بچنا نہیں ، بلکہ اس راستے میں فنا ہونا ہی اصل کامیابی سمجھاتھا، ان کا حال یہ ہے کہ میدانِ قتال میں نیزہ لگتا ہے ،دشمن اسے مارتا ہے ، جب وہ اپنے خون کے دھاروں کو دیکھتاہے ، تو فوراً خوشی سے اپنا خون اٹھاکر منہ پر ملتا ہے اور فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ کانعرہ لگاتا ہے ، ربِّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا! اللہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔یہ قتل ہوتے ہوئے کامیابی کے دیوانہ وار نعرے بلند کرنے والے صحابۂ کرام تھے کہ جن کی اقتدا ء کا ہمیں حکم ہے اور جن کے نقشِ قدم پر چل کر ہماری یہ ذلت عظمت میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔

عزیز بھائیو!

اللہ رب العزت کا فرمان ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ’’اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی ندا پر لبیک کہا کرو‘‘ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ’’جب وہ تمہیں اس عمل کی طرف بلاتے ہیں جس میں تمہاری ہی زندگی ہے‘‘، مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد اللہ کی طرف رجوع ، قرآن وسنت پر عمل اور جہاد و قتال ہے، آگے اللہ فرماتا ہے: وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ ’’اور یہ بات جان رکھو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے‘‘ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ’’اور تم اسی کے پاس ہی جمع ہو گے‘‘ … اسی طرح آپﷺ فرماتے ہیں: بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ ’’نیک اعمال کی طرف لپکو ‘‘یعنی تاخیر نہ کرو،اس لیے کہ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ’’اندھیری رات کی طرح کے فتنوں کے خوف سے‘‘، وہ ایسے فتنے ہوں گے کہ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، ’ ’صبح آدمی مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ہوگا ‘‘ وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، ’’اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کافر ہوگا‘‘،اس سب کا سبب یہ ہوگا کہ يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا ’’اپنے دین کو وہ دنیا کے معمولی سامان کی خاطر بیچ ڈالے گا ‘‘[1]۔علماءکرام اس آیت و حدیث کی شرح میں کہتے ہیں کہ اس میں فتنوں سے محفوظ ہونے اور کسی بھی آزمائش میں صحیح قدم لینے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ جب بھی اللہ کی طرف سے پکار سنی جائے، جب بھی خیر کا، نیکی کا کام نظر آجائے تو اس پر لبیک کہنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے ، ورنہ بعد میں اللہ رب العزت کی قدرت سے عمل کی توفیق چھِن جاتی ہے۔خیر کا دروازہ کھلا دیکھ کر اور اللہ کی نداء پہلی دفعہ سن کربھی اگر لیت و لعل سے کام لیا جائے تو خدشہ ہے کہ بعد میں اللہ خیر کی طرف قدم اٹھانے کی توفیق ہی سے محروم کردیں۔آپﷺ کافرمان ہے: ’’لا يزال قوم يتأخرون حتى يؤخرهم الله‘‘ ’’ایک قوم خود سے تاخیر کرتی ہے یہاں تک کہ اللہ پھر انہیں پیچھے اور مؤخر کر دیتا ہے‘‘۔ اللہ ہمیں اپنی نداء پر لبیک کہنے والا بنائیں اور ہمیں توفیق دیں کہ کسی بھی خیر کے کام میں تاخیر نہ کریں کہ یہی فتنوں سے بچنے کا وسیلہ بتایا گیا ہے۔

برصغیر کے میرے محترم بھائیو!

آج الحمد للہ ،ثم الحمد للہ ، اللہ کے وعدوں کی سچائی کاعملی نمونہ ہم اور آپ افغانستان کی سرزمین پر دیکھ رہے ہیں ، جب ایمان کے دعوے ، اللہ کے ساتھ محبت اور جنتوں کی چاہت کے دعوے ، شریعت کی حاکمیت اور اس کی پیروی کے دعوے جب عمل سے سچے کر دکھا ئے گئے، توابھی بیس سال بھی پورے نہیں ہوئے ،کہ اللہ نے اپنی طرف سے نصر من اللہ اور فتح قریب کا وعدہ بھی سچ کر دکھایا اور آج فرعون ِ وقت نے اپنی ذلت اور ناکامی کی دستاویز پر دستخط کردیا؛ یہ اللہ کی پکار پر لبیک کہنے کاانعام ہے کہ الحمد للہ ان مؤمنین کا ایمان محفوظ ہوا ،ائمۂ کفر کا کبر خاک میں مل گیا اور ابھی وہ دن بھی زیادہ دور نہیں کہ جب اللہ کے اذن سے افغانستان ایک دفعہ پھر دارالاسلام ، اسلام کا گھربن جائے گا ۔

برصغیر کے میرےمسلمان بھائیو!

اللہ کے راستے میں عظیم جہاد ، اس کے بدلے میں یہ نصرت وفتح اللہ ہم برصغیر والوں اور پوری امت مسلمہ کے لیے بھی مبارک کرے، اس میں ہمارے لیے بھی دعوت ِعمل ہے کہ ہم بھی اللہ کی جنتوں کے خریدار بن جائیں ، پہلے اپنے دلوں پر اللہ کی محبت کا جھنڈا گاڑیں ،دنیا وی محبتوں کے بت اورحقیر غلاظتیں سینوں سے دور پھینکیں اور ساتھ ہی اللہ کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے جہادی میدانوں کا رُخ کریں ، اللہ کی راہ میں اپنے جسم کٹوانا اپنی چاہت و آرزو بنائیں۔یقین جانیے ! کشمیر و ہند اور پورے برصغیر میں مسلمانوں پر ڈھایا گیا ایک ایک ظلم اور اس خطے میں دین ِمتین کا مغلوبیت میں گزرنے والا یہ ایک ایک لمحہ ہمیں پکار رہا ہے کہ انفروا خفافا و ثقالا ، ہلکے ہو یابوجھل بس اللہ کے راستے میں نکلو! تاخیر بہت ہوچکی ، غزوۂ ہند کا وہ معرکہ دعوت اور قتال کے ہر ہر میدان میں اب بپا ہونا چاہیے کہ جس کی کامیابی کی بشارتیں اللہ کے نبیﷺ نے اس فاتح امت کو دی ہیں ، اللہ رب العزت ہمیں اس مبارک غزوے کے لشکر میں شامل کرے اوریہاں ظلم وکفر کی یہ رات اپنی رحمت سے جلد سے جلد لپیٹ دے ، آمین یا رب العالمین !

آخر میں ایک دفعہ پھر عید الفطر کی مبارک باد پیش کرتاہوں اور ساتھ مؤمنین کے دلوں کو ٹھنڈا کرنے والی فتح ، فتح مبین پر بھی مبارک باد کہتاہوں اور یہ دعا بھی کرتاہوں کہ اللہ رب العزت اِمارت اسلامیہ کے مجاہدین اور امیر المؤمنین شیخ ہبۃ اللہ ﷿ کی مدد و نصرت فرمائے اور آگے اس مبارک سفر میں اور اس کے ہر ہرپڑاؤ میں اللہ رب العزت انہیں اپنی تائید ، رہنمائی اور نصرت سے نوازے ، آمین یا رب العالمین !

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

 

[1] صحيح ابن حبان

ڈاؤن لوڈ | Download

شاهد أيضاً

شہادت : رتبہ اولی محبت کے قرینوں میں – مجاہدین کی ایک محفل میں فضیلتِ شہادت و شہداء کے متعلق گفتگو – حافظ صہیب غوری حفظہ اللہ

شہادت : رتبہ اولی محبت کے قرینوں میں – مجاہدین کی ایک محفل میں فضیلتِ …

بھائی چارگی، اس کی اہمیت اور پیدا کرنے کے اسباب – از مولانا محمد مثنیٰ حسان

بھائی چارگی، اس کی اہمیت اور پیدا کرنے کے اسباب از مولانا محمد مثنیٰ حسان …